پلوامہ ۔ شوپیان ریلوے لائن کا مقصدکسانوں کو ان کی زرعی زمینوں سے محروم کرنا ہے: مقامی لوگ

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کی طرف سے مجوزہ پلوامہ-شوپیان ریلوے لائن کے لئے زمین کی نشان دہی سے جنوبی کشمیر میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پیداہواہے جہاں لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام زرخیز زمین پر قبضہ کرنے اور کسانوں کو معاشی طور پرمفلوج کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقامی لوگوںنے صحافیوں کو بتایا کہ کشمیری جو بنیادی طور پر کسان اور پھلوںکے شتکار ہیں، اس اقدام کو اپنی زرعی زمینوں سے بے دخل کرنے، خود کفالت سے محروم کرنے اور اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خودارایت کے لیے آواز اٹھانے کی ان کی اجتماعی صلاحیت کو کمزور کرنے کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ سمجھتے ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق حکام زمین کی نشاندہی کے لیے گزشتہ کئی دنوں سے گڈورہ، کنگن، بابہارا،زڈورہ ا اور ملحقہ علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں۔ باغات اور دھان کے کھیتوں میں اچانک نشانات لگانے سے کسان صدمے میں ہیںاور بہت سے لوگوں نے مذکورہ سائٹس پر جاکر اس عمل کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔کنگن کے ایک کسان غلام محمد نے بتایا کہ یہ نشانات بغیر کسی مشاورت کے راتوں رات لگائے گئے۔ انہوں نے کہاکہ یہ زمین ہماری بقا کا واحد ذریعہ ہے، باغات کے اندر نشانات دیکھنا ان خاندانوں کے لیے تکلیف دہ ہے جو مکمل طور پر کاشتکاری پرانحصارکرتے ہیں۔ باغات کے کئی مالکان نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں یہ چوتھا سروے ہے ،ہر بار گائوں والوں میں شدیدبے چینی ہوتی ہے۔گزشتہ سال اسی طرح کی ایک سروے نے بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا تھا جس نے حکام کو اس منصوبے کو روکنے پر مجبور کیا تھا۔ تاہم زمین کی نشان دہی کی تازہ کارروائی سے کشیدگی پھر سے بڑھ گئی۔زڈورہ کے ایک سیاسی کارکن الطاف احمد نے منصوبے کی ضرورت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پلوامہ اور شوپیاں سڑکوں کے نیٹ ورک کے ذریعے پہلے ہی اچھی طرح سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے لائن بچھانے کے لیے انتہائی پیداواری باغات کو تباہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔نیوہ کے رہائشیوں نے بتایاکہ انتظامیہ مختلف بہانوں سے بار بار زرعی زمینوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔پہلے انہوں نے انجینئرنگ کالج کے لیے ہماری زمین لی، اب وہ ریلوے منصوبے کے لیے ہمارے باغات چاہتے ہیں۔ ہر بارکسانوں پر بوجھ پڑتا ہے۔لوگوں نے مطالبہ کیا کہ حکام کسی بھی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے پھلتے پھولتے باغات کے بجائے جو ہزاروں خاندانوں کو پالتے ہیں، بنجر زمین کی نشاندہی کریں۔کسانوں نے خبردار کیا کہ وہ اپنی زمین کو ریلوے کوریڈور میں تبدیل کرنے کے کسی بھی اقدام کی سخت مزاحمت کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے باغات ہماری معاشی لائف لائن ہیں، ہم اپنی زمینوں میں ریلوے کی پٹریاں بچھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔






