بھارتی سرپرستی میں شیخ حسینہ واجد کا بنگلادیش میں سیاسی رہنمائوں کے قتل کا منصوبہ بے نقاب
سیاسی کارکن پر قاتلانہ حملے کے بعد بھارتی سفیر طلب اور شدید تشویش کا اظہار

ڈھاکہ :بنگلا دیش نے بھارت نواز سابق مفروروزیراعظم شیخ حسینہ واجد پر ملک میں سیاسی تشدد اور قتل کی سازشوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتے ہوئے بھارت سے باضابطہ احتجاج کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بنگلا دیشی وزارتِ خارجہ نے ایک سیاسی کارکن پر قاتلانہ حملے کے بعد بھارتی سفیر کو طلب کیا اور معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ مفرور شیخ حسینہ واجد آئندہ عام انتخابات کو متاثر کرنے کے لیے دہشت گردی کی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں اور اس ضمن میں بھارت میں موجود عناصر سہولت کاری کر رہے ہیں۔بیان کے مطابق سیاسی کارکن عثمان ہادی پر فائرنگ کا واقعہ اسی سلسلے کی کڑی ہے، جس میں وہ شدید زخمی ہوئے۔بنگلہ دیشی حکام کے مطابق عثمان ہادی کو ماضی میں بھی دھمکیاں ملتی رہی ہیں اور ان دھمکیوں میں بھارت کے فون نمبرز کے استعمال کا دعوی کیا گیا ہے۔ بنگلا دیشی وزارتِ خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ حملے میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے بنگلا دیش کے حوالے کیا جائے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی کے مطابق بنگلا دیش کا موقف ہے کہ بھارت میں مقیم عوامی لیگ کے بعض رہنما بنگلا دیش میں تشدد بھڑکانے اور انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں ملوث ہیں۔ اس تناظر میں ڈھاکا نے نئی دہلی سے تعاون اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے پر زور دیا ہے۔








