پلوامہ : قابض بھارتی انتظامیہ کی عوام دشمن پالیسیوں کیخلاف مظاہرے

سری نگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں میں قابض بھارتی انتظامیہ کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف ضلع شوپیاںمیں زبردست مظاہرے کیے گئے ۔ ضلع کے کئی دیہات کے لوگوں نے زرعی اراضی میں سے ریلوے لائن کی تعمیر کے منصوبے کے خلاف مظاہرے کیے۔ کسانوں نے خبردار کیا کہ یہ منصوبہ ان کے معاش کا واحد ذریعہ تباہ کر دے گا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کیگام ،چیک نیل، تریچل اور دیگر دیہات کے سینکڑوں کسانوں نے زرخیز زرعی اراضی اور باغات میں سے ریلوے لائن منصوبے کے خلاف مظاہرے کئے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مجوزہ راستے پر کھمبوں کی تنصیب سے نشان زد کی گئی حد بندی نے سیب کے باغات اور دھان کے کھیتوں پر انحصار کرنے والے خاندانوں میں خوف اور اضطراب پیدا کردیا ہے۔کسانوں کا کہنا تھا کہ باغات ان کے رزق کا واحد ذریعہ ہیں اور ان کے ذریعے ریلوے لائن کو روٹ کرنے سے ہزاروں افراد معاشی بدحالی کا شکار ہوں گے۔ ایک مقامی کسان نذیر احمد نے کہا، ”ہم حکام سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ ہماری روزی روٹی بچائیں،“ انہوں نے مزید کہا کہ باغات نہ رہے تو خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی متبادل ذریعہ نہیں رہے گا۔
ایک اور کسان ولی محمد نے کہا کہ حکام پچھلے ایک ہفتے سے پلوامہ اور شوپیاں کے درجنوں دیہاتوں میں زمین کی نشان دہی کے لیے سروے کر رہے ہیں اور کھمبے لگا رہے ہیں۔ انہوں نے مشق کو ان رہائشیوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ قرار دیا جن کی زندگیاں زمین سے جڑی ہوئی ہیں۔
احتجاج کرنے والے کسانوں کا کہنا تھا کہ ایسے منصوبے جو مقامی لوگوں کی مشاورت یا رضامندی کے بغیر لگائے گئے ہیں، کشمیریوں کو ان کی زمین اور معاش سے محروم کرنے کی ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ باغات اور زرخیز زرعی کھیتوں کو نشانہ بناناکشمیریوں کو معاشی طور پر کمزور کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔






