بہار کے وزیراعلیٰ کو اپنے اہانت آمیز رویے پر فوری معافی مانگنی چاہیے، میر واعظ

سری نگر : کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھارتی ریاست بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی طرف سے ایک سرکاری تقریب کے دوران ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا نقاب سرعام اتارنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ذاتی وقار اور اخلاقی حدود کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق میر واعظ نے آج سرینگر کی تاریخی جامع مسجدمیں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ سیاسی شخصیات اور بھارتی میڈیا کیطرف سے واقعے کی مذمت کے بجائے حجاب کو نشانہ بنا کر اصل معاملے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میر واعظ نے کہا کہ بہار کے وزیراعلیٰ کو اپنے نامناسب اور اہانت آمیز رویے پر فوری معافی مانگنی چاہیے۔
انہوں نے جب کسی صاحب اختیار کی طرف سے کسی کے وقار کو برسرعام پامال کیا جاتا ہے تو یہ مزید ہرسانی اور پریشانی کا باعث بنتا ہے اور یہ احساس تقویت پاتا ہے کہ اخلاقیات اور بنیادی انسانی اقدار کی طاقت کے آگے کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔
میرواعظ نے کہا کہ حجاب کی پابندی کرنے والی مسلم خواتین کے لیے یہ ایمان، شناخت اور ذاتی انتخاب کا معاملہ ہے جو کبھی بھی تعلیم، پیشہ ورانہ مہارت یا سماجی شراکت میں رکاوٹ نہیں رہا جیسا کہ بہار کے وزیر اعلیٰ کی مذموم حرکت کو درست ثابت کرنے کے لیے جان بوجھ کر کہا جا رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ حجاب کی پابندی کرنے والی مسلم خواتین نے دنیا بھر میں زندگی کے ہر شعبے میں شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ بااختیار ہونا لباس پہننے کے انداز میں نہیں بلکہ یکساں مواقع اور محنت میں مضمر ہے۔
میرواعظ نے بہار کے وزیر اعلیٰ سے خاتون سے ان کے نامناسب اور اہانت آمیز رویے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مضحکہ خیز جواز پیش کرنے والوں پر بھی زور دیا کہ وہ نام نہاد "ترقی” کی آڑ میں ایسی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے سے باز رہیں۔KMS-12/M






