بھارت : اترپردیش میں حکام نے ایک اور مسجد، مدرسے کو بلڈوزر چلاکر مسمارکردیا
لکھنو: بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں بی جے پی حکومت نے بلڈوزر چلاکر ایک اور مسجد اور مدرسے کو منہدم کر دیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ تعمیرات گرام سبھا کی سرکاری زمین پر قائم تھیں جبکہ مسجد انتظامیہ اس دعوے کو مسترد کرتی ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ ماہ کے دوران سنبھل میں مسلمانوں کے ایک درجن سے زائد مقامات مسمار کئے جا چکے ہیں اور شاہی جامع مسجد سے متعلق عدالتی تنازعہ ابھی زیرِ التوا ہے۔ ضلع سنبھل میں واقع سلیم پور سالار عرف حاجی پور گائوں میں سرکاری بلڈوزروں نے ایک مسجد اور مدرسے کو منہدم کر دیا۔ حکام کے مطابق مدینہ مسجد جو439 مربع میٹر کے پلاٹ پر قائم تھی،کی انتظامی کمیٹی کو دو ہفتے قبل نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ تاہم مسجد کے نگراں حاجی شمیم نے کہا کہ انتظامیہ کے اصرار پر مسجد کی اگلی دیوار خود گرائی گئی تھی، مگر بعد میں سرکاری بلڈوزروں نے مدرسے سمیت پورا ڈھانچہ منہدم کر دیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ زمین تقریبا 40سال قبل مدرسہ قائم کرنے کی شرط پر الاٹ کی گئی تھی۔ضلع مجسٹریٹ کے مطابق انتظامیہ جلد ہی سنبھل قصبے میں شنکر چوک کے قریب واقع ملک شاہ بابا کے قبرستان کو بھی ہموار کرے گی جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ سرکاری زمین پر قائم ہے۔ 20دسمبر کو بھی انتظامیہ نے سنبھل میں واقع شاہی جامع مسجد سے متصل قبرستان کے کنارے قائم دو درجن سے زائد دکانوں اور مکانات کو منہدم کیا تھا۔ واضح رہے کہ ایک ہندوتوا گروپ نے مقامی عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے کہ شاہی جامع مسجد کی جگہ ہندوئوں کے حوالے کی جائے کیونکہ مغل بادشاہ اورنگزیب نے شیو مندر کو منہدم کر کے اس کے کھنڈرات پر مسجد تعمیر کی تھی۔ یہ مقدمہ تاحال زیرِ سماعت ہے۔سنبھل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس مزید عمارتوں کی فہرست موجود ہے جن کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ بابری مسجد کے بارے میں بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعدبھارت میں مسجدوں اورمدرسوں کو مسمار کرنے کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے جہاں ہندو انتہاپسندآئے روز نئی نئی مسجد وںکے بارے میں دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ مندر وںکو توڑکر تعمیر کی گئی ہیں۔






