APHC

بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث مقبوضہ کشمیرمیں مسلسل خون بہہ رہا ہے، حریت کانفرنس

تنازعہ کشمیر کے حل میں واحد رکاوٹ بھارت کا غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل ہے۔ ترجمان

سری نگر : کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارت کی ہٹ دھرمی اور جنگی پالیسیوں کی وجہ سے کشمیر میں سات دہائیوں سے زائد عرصے سے خون بہہ رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہا س نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ نئی دہلی کی ہٹ دھرمی تنازعہ کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر حقیقت پسندانہ رویے نے کشمیر کو ایک خطرناک ایٹمی فلیش پوائنٹ میں تبدیل کر دیا ہے جب کہ جموں و کشمیر پر بھارت کا غیر قانونی قبضہ طویل فوجی قبضے کی واضح مثال کے طور پر بین الاقوامی قوانین کی منظم خلاف ورزیوں کا ایک ایک واضح عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اقوام متحدہ کے سامنے واضح وعدوں کے باوجود کشمیری عوام کو ان کے عالمی طور پر تسلیم شدہ حق خودارادیت سے انکار کر رہا ہے۔ترجمان نے کہا کہ بی جے پی کی بھاری حکومت نے 5 اگست 2019 کو 370 اور 35-A کی دفعات کی منسوخی کے بعد علاقے میں اپنے جابرانہ ہتھکنڈوں کو تیز کر دیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ کا تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے جس کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ رائے شماری کے ذریعے ہونا باقی ہے۔حریت کانفرنس نے ہندوتوا تنظیموں بی جے پی، آر ایس ایس، وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ میڈیکل کالج میں کشمیری مسلم طلبا کے داخلوں کی مخالفت کرنے کے بیانات کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بی جے پی حکومت کی ہندوتوا پر مبنی کشمیر مخالف پالیسی کا حصہ قرار دیا۔ترجمان نے کہا کہ مودی حکومت نے بھارتی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر جموں کے علاقے میں ولیج ڈیفنس گارڈز کے نام سے منظم ہندوتوا عسکریت پسندوں میں ہتھیاروں کی تربیت اور تقسیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے اور کنٹرول لائن کے قریب مختلف اضلاع میں نئے تربیتی مراکز کا قیام اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ان نام نہاد ویلج ڈیفنس گارڈز کو بھارتی فوج علاقے میں مزید دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کر رہی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کشمیریوں کو ان کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت کشمیری عوام کو سزا دینے کے لیے ریاستی دہشت گردی کو سرکاری پالیسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
ترجمان نے زور دے کر کہا کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کا فرض ہے کہ وہ بھارت کو مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے روکے اور تنازہ کشمیر کے حل کیلئے ایک جاندار کردار ادا کریں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button