عالمی طاقتوں کی خاموشی اور غفلت : کشمیری اپنی بقا کے خطرے سے دوچار

سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے ہندو امرناتھ یاترا کی آڑ میں مقبوضہ علاقے میں مزید ہزاروں بھارتی فورسز اہلکاروںکی تعیناتی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ عالمی طاقتوں کی خاموشی اور عدم توجہی کے باعث کشمیری اپنے ہی وطن میںاپنی بقا کے خطرے سے دوچار ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت نے کشمیری مسلمانو ںکے دیگر حقوق کے ساتھ ساتھ مذہبی حقوق بھی سلب کررکھے ہیںلیکن وہ ہندو امرناتھ یاترا کے انعقاد کے لیے تمام وسائل بروئے کا ر لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری مسلمانوں کوجمعہ اور عید کی نماز ادا کرنے سے روکا جاتا ہے اور مقبوضہ علاقے میں محرم الحرام کے جلوسوں پر بھی پابندی عائد ہے جبکہ اسکے برعکس ہندوﺅں کو تمام مذہی آزادیاں حاصل ہیں ۔انہوںنے کہا کہ بھارتی حکومت لاکھوں ہندو ﺅں کو یاترا کے نام پر علاقے میں لاتی ہے اور لمبے عرصے تک قیام کے لیے انہیں ہر طرح کی سہولیات فراہم کرتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارت ان یاتروں کو مستقل طورپر یہاں بسانے کا منصوبہ رکھتا ہے ، کشمیری مسلمانوں سے ضبط کی جانے والی اراضی ان یاتریوںکو دی جائے گی۔
ترجمان نے کہا کہ فورسز اہلکاروں، کاروباری ہندو افراد اور بیوروکریٹس سمیت لاکھوں بھارتی ہندوﺅں کو گزشتہ چھ سالوں کے دوران علاقے کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ فراہم کیے گئے ہیں اور یہ عمل مسلسل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مذموم عمل کا واحد مقصد علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنا ہے ۔کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا کہ مودی حکومت نے امرناتھ یاتریوں کی تعداد اور یاترا کی مدت میں اضافہ کیاہے ، یاترا کی سیکورٹی کے نام پر مزید ہزاروں فورسز اہلکار علاقے میں تعینات کیے جاتے ہیں ، چھاپوں ، محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور بے گناہ لوگوں کی گرفتاری میںتیزی لائی ہے ۔
ترجمان نے بڑھتے ہوئے چھاپوں اور حریت رہنماﺅں ، کارکنوں اور عام نوجوانوں کو نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام بھارتی کی تمام تر چیرہ دستیوں کے باوجود شہداءکے عظیم مشن کو اسکے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہیں۔






