نریندر مودی کا سومناتھ مندر پر مضمون: ہندوتوا قوم پرستی کو فروغ اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش

نئی دلی :بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کاسومناتھ مندر کے بارے میں اے آئی سے تیا ر کردہ مضمون بھارت میں ہندوتوا قوم پرستی کو فروغ دینے اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی ایک مہم کا حصہ ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نریندر مودی نے 5جنوری کو شائع ہونے والے”سومناتھ خود اعتمادی پرورایک ہزارسال کا غیر منقطع ایمان (1026-2026)” کے عنوان سے مضمون کو تاریخی طورپر ہندوتوا قوم پرستی کے فروغ اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے استعمال کیا ہے۔نریندر مودی کا مصنوعی ذہانت کے استعمال سے کیاگیا مضمون نہ صرف تاریخی طور پر گمراہ کن ہے بلکہ اس میں بلکہ مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی بھی کی گئی ہے ۔یہ مضمون مصنوعی ذہانت کی تخلیق ہے نہ کہ نریندر مودی کا اپنا کمال کیونکہ ان کے پاس ایسی تاریخی یا فکری گہرائی موجودنہیں۔ انتخابات سے قبل مہم کے دوران،شائع ہونے والے اس مضمون میں نریندر مودی نے محمود غزنوی کے 1026کے سومناتھ مندرپر حملے کو محض ایک تاریخی المیہ نہیں بلکہ "ہندوئوں اورانکی ثقافت کو غلام بنانے کی کوشش قراردیا ہے۔ مضمون میں نریندر مودی نے سومناتھ مندر کی بار بار کی تباہیوں کو "قرون وسطیٰ کے وحشیانہ حملے” کے طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے، حملہ آوروں کے ناموں کو ہمیشہ کیلئے تباہی کے مترادف بنا کر مسلمانوں کی ثقافتی وراثت کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے ۔یہ مضمون تاریخی احیا کی کہانی نہیں بلکہ ایک انتقامی پروپیگنڈہ بن چکا ہے، جس میں مسلمانوں کو ایک دشمن اور مستقل لوٹیرے کے طور پر پیش کیاگیا ہے۔ مودی نے سومناتھ مندر کی "شاندار بقا” کو ہندوئوں کے "ناقابل شکست حوصلے”سے جوڑاہے جبکہ حملہ آوروں کو "ہوا میں بکھری ہوئی گرد” قرار دیاہے۔ مضمون میں مودی نے 1951میں سومناتھ مندر کے دوبارہ افتتاح پر جواہر لال نہرو کی عدم دلچسپی پر طنز اور بھارت کے سیکولر بانیوں کو نظر انداز کر کے ہندوتوا جنون کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں متنازعہ قانون شہریت اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کے خلا ف ہونیو الے فسادات اور اقلیتوں کے خلاف مظالم عروج پر ہیں، مودی کا یہ بیانیہ بھارت کی کثیر الثقافتی روح کو اکثریتی جنون کے تحت غلام بنانے کی ایک کوشش ہے۔ مضمون میں 20کروڑمسلمانوں کو حملہ آوروں کے وارث کے طور پر پیش کیا گیا ہے اوریہی وجہ ہے مودی کا بھارت: تمدن کی فتح نہیں بلکہ تعصب اور نفرت کا منصوبہ ہے ، جو جمہوریت کو تباہی کی راہ پر لے جاتا ہے۔ مودی کا سومناتھ مندر پر یہ مضمون ایک سیاسی ہتھیار بن چکا ہے جس کے ذریعے بھارت کے سیکولر اور جمہوری اصولوں کو نظرانداز کر کے ہندوتوا قوم پرستی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس مضمون کا مقصد مسلمانوں کو "دشمن” اور "غاصب” کے طور پر پیش کرنا ہے اور سومناتھ مندر جیسے تاریخی مقامات کو ایک پروپیگنڈہ کا ذریعہ بنانا ہے۔مودی حکومت کا یہ بیانیہ بھارت کی جمہوریت اور سماجی ہم آہنگی کیلئے سنگین خطرہ ہے، جو نفرت اور تعصب کو فروغ دے رہا ہے اور ملک کے مختلف طبقات میں تقسیم پیدا کر رہا ہے۔ اسکی یہ حکمت عملی بھارت کو ایک تکثیری معاشرہ بنانے کے بجائے اکثریتی قوم پرستی کی طرف دھکیل رہی ہے۔




.jpeg)
