تلنگانہ : ہندو انتہا پسندو ں نے ذہنی طورپر معذور مسلم نوجوان کو ماراپیٹا

حیدرآباد:بھارتی ریاست تلنگانہ میں ہندو انتہا پسندوں نے ذہنی طور پر معذور ایک مسلم نوجوان کو مندر میں نماز پڑھنے کا جھوٹا الزام لگا کر وحشیانہ مار پیٹ کا نشانہ بنایا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل واقعے کی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لال قمیض پہنے ایک شخص مندر کے احاطے میں زخمی حالت میں پڑا ہے جبکہ سنگارم گاوں کے کئی ہندو افراد اس کے ارد گرد کھڑے ہیں۔دیہاتیوںنے اس پر مند ر میں جاکر نماز پڑھنے کا الزام لگایا اور اس پر بہیمانہ تشدد کیا۔ تاہم پولیس نے بعد میں اس بات کی تصدیق کی کہ وہ شخص ذہنی بیماری میں مبتلا ہے۔ اسسٹنٹ پولیس کمشنر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ”مسلم نوجوان صحیح طریقے سے بات چیت نہیں کر پا رہا ہے۔ پوچھ گچھ کے دوران وہ صرف دو الفاظ دہراتا رہا-”زبیر اور بہار“۔
علاقے کے مسلمانوںنے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ذہنی طور پر بیمار شخص پر حملہ نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ ایک رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگر وہ ذہنی طور پر بیمار تھا تو لوگوں کو انسانیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا، اسے مارنے کے بجائے فوراً پولیس کو بلانا چاہیے تھا۔ایک اور شخص نے کہا کہ مندر میں نماز پڑھنے کے بے بنیاد الزام نے صورت حال کو مزید خراب کر دیا ، اس قسم کی باتیں مسلمانوں کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں



