مودی کی ناکام خارجہ پالیسی اور مجرمانہ غفلت کے باعث بھارتی شہری دنیا بھر میں زلت کا شکار
اسلام آباد:
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ناقص خارجہ پالیسی اور تعلیمی شعبے میں مبینہ غفلت کے باعث بھارتی شہریوں کو بیرونِ ملک شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مختلف ممالک، خصوصا امریکا میں ویزا پابندیوں، تعلیمی جانچ کے سخت معیار اور تجارتی رکاوٹوں نے بھارتی شہریوں اور طلبہ کے لیے مواقع محدود کر دیے ہیں۔بھارتی جریدے دی اکنامک ٹائمز کے مطابق جعلی ڈگری اسکینڈلز سامنے آنے کے بعد امریکی حکام نے ویزا اور تعلیمی اسناد کی جانچ مزید سخت کر دی ہے، جس کے نتیجے میں امریکا میں بھارتی طلبہ کے داخلوں میں 75 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی شہریوں کے لیے امریکی ویزا کا حصول اب پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے، جبکہ ملازمت اور دیگر پیشہ ورانہ مواقع بھی محدود ہوتے جا رہے ہیں۔دی اکنامک ٹائمز کے مطابق امریکا کی جانب سے سختی کے باعث بھارتی شہریوں کی ویزا درخواستیں مسترد ہونے کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکا میں ایچ ون بی ویزا حاصل کرنے والے تقریبا 72 فیصد بھارتی شہری کو مختلف انتظامی اور قانونی مسائل کا سامنا ہے۔مزید انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران امریکا سے تقریبا 3,800 افراد کو ملک بدر کیا گیا، جن میں سب سے بڑی تعداد بھارتی شہریوں کی تھی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جعلی ڈگری مافیا کے انکشافات کے بعد ویزا پالیسیوں میں سختی ناگزیر ہو گئی تھی۔سیاسی مبصرین کے مطابق مودی حکومت کی خارجہ پالیسی، بلند و بانگ دعوں اور نمائشی سفارتکاری کے برعکس عملی سطح پر کمزور ثابت ہوئی ہے، جس کے اثرات اب بھارتی شہریوں کو عالمی سطح پر بھگتنا پڑ رہے ہیں۔







