بھوپال گیس سانحہ کے متاثرین 41سال سے انصاف کے منتظر
انصاف کی عدم فراہمی پر متاثرہ خاندانوں کی بی جے پی پر کڑی تنقید
بھوپال: بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال میں گیس دھماکے میں 5ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کو 41سا ل مکمل ہونے کے موقع پر واقعے میں زندہ بچ جانے والے افراد اورمتاثرہ خاندانوں نے انصاف کی فراہمی سے انکار اورانکی مشکلات کو بڑھانے پر حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی پرکڑی تنقید کی ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 2دسمبر 1984کو بھوپال میں یونین کاربائیڈ پیسٹی سائیڈ پلانٹ میں انتہائی زہریلے کیمیکل میتھائل آئسوسیانیٹ گیس کے اخراج کی وجہ سے ہونے والے دھماکے میں کم سے کم 5ہزار479افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو گئے تھے ۔ اس واقعے کو دنیاکا بدترین صنعتی سانحہ قراردیاجاتاہے ۔سانحے میں زندہ بچ جانے والے افراد کی تنظیموں کے نمائندوں نے بھوپال میں ایک پریس بریفنگ میں، بی جے پی کے خلاف چارج شیٹ جاری کی۔ چارج شیٹ میں بی جے پی پر الزام لگایا گیا ہے کہ ہندوتوا پارٹی کی حکومت نے یونین کاربائیڈ اور ڈائو کیمیکل جیسی امریکی کارپوریشنوں کے مفادات کو دھماکے میں ہلاک اور زندہ بچ جانے والے افراد پر ترجیح دی ۔بھوپال گیس پیڈٹ مہیلا اسٹیشنری کرمچاری سنگھ کی رشیدہ بی نے اس موقع پر کہا کہ بی جے پی نے سانحے کے متاثرین کودھوکا دیا اور امریکی کمپنی ڈائو کیمیکل کو ماحولیاتی ذمہ داریوں سے آزاد ی دلائی۔متاثرین کے ایک اور نمائندے بالکرشن نامدیو نے کہاکہ 2002میں اس وقت کے وزیر داخلہ ایل کے اڈوانی نے یونین کاربائیڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر وارن اینڈرسن کے خلاف الزامات کو کمزور کرنے کی کوشش کی تھی۔بھوپال گروپ فار انفارمیشن اینڈ ایکشن کی رچنا ڈھینگرا نے کہاکہ بی جے پی کے دور حکومت میں متاثرین کی بحالی کونظرانداز کیاگیا ۔انہوں نے کہاکہ 2008میں وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے سانحے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کو بلاک کر دیاتھا۔انہوں نے مزیدکہاکہ پابندیوں کے باوجود ڈائو کیمیکل بھارت میں اپنے کاروبار جاری رکھے ہوئے ہے۔







