آزاد کشمیر

بھارتی حکومت عدلیہ کو کشمیری قیادت کے خلاف ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہی ہے، طاہر تبسم

اسلام آباد:
انسٹیٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ کے صدر ڈاکٹر محمد طاہر تبسم نے کہا ہے کہ بھارت کی ہندوتوا حکومت عدلیہ کو کشمیری قیادت کے خلاف ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہی ہے۔بھارتی عدالتیں کشمیرکی موثر آوازوں کو دبانے کیلئے غیر انسانی، غیر قانونی اور انتقامی ہتھکنڈے آزما رہی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ڈاکٹر طاہر تبسم نے ایک بیان میں کہا کہ کشمیری قائدین کے خلاف قائم تمام مقدمات جھوٹے ، بے بنیاداور سیاسی انتقام پر مبنی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ مسرت عالم بٹ،یاسین ملک ،شبیر احمد شاہ، فاروق احمد ڈار، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ظفر اکبر بٹ اور دیگر تمام لیڈروں کو جیلوں میں حبس بے جا میں رکھ کر انہیں علاج معالجہ کی سہولتوں مسلسل محروم رکھا جارہا ہے انہیں ناقص اورمضرصحت خوراک فراہم کی جارہی ہے جو کہ بھارتی قوانین اور عالمی چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیری قیادت کی زندگیاں بچانے کے لئے فوری کردار ادا کریں ۔طاہر تبسم نے حکومت پاکستان سے بھی اپیل کی کہ وہ کشمیری حریت قیادت کی غیر قانونی نظربندی سے رہائی کیلئے فوری سفارتی و سیاسی کوششیں کرے ۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت یاسین ملک سمیت حریت قیادت کو سیاسی انتقام کا نشانہ بناررہی ہے ۔تاہم انہوں نے واضح کیاکہ بھارت ان غیر قانونی ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مساجد، عبادت گاہوں کی جبری پروفائلنگ اور عام کشمیریوں کی جائیدادوں کی ضبطی مکمل طورپر غیرقانونی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button