مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر :سانحہ ہندواڑہ کے متاثرین36برس سے انصاف کے منتظر

سرینگر: کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارت کے غیر قانونی طور پرزیر قبضہ جموں و کشمیر میں سانحہ ہندواڑہ کے متاثرین کو ان کی 36ویں یوم شہادت پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 25جنوری 1990کو شمالی کشمیر کے قصبے ہندواڑہ میں بھارتی فوجیوں نے پرامن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کر کے کم از کم 21نہتے کشمیریوں کو شہید اور درجنوں کو زخمی کردیا تھا ۔ مظاہرین سرینگر کے علاقے گا ئو کدل میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں عام شہریوں کے قتل عام کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔چند روز قبل 21جنوری 1990کو بھارتی فوجیوں نے گائو کدل میں پرامن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کرکے 50سے زائد بے گناہ افراد کو شہید اور سینکڑوں کو زخمی کردیا تھا۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں ہندواڑہ اور دیگر سانحات میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے کشمیریوں کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا، جن میں سے بیشتر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جنوری کے مہینے میں رونما ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری شہدا کی قربانیاں آزادی اور حق خود ارادیت کے لیے جاری تحریک کا بیش قیمت اثاثہ ہیں اور ان قربانیوں کی بدولت ہی تنازعہ کشمیر عالمی سطح پر مرکز نگاہ بن گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے جاری قتل عام،ظلم و جبر اور کالے قوانین کے نفاذ کے باوجود بھارتی حکومت کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو کمزور کرنے اور انصاف اور آزادی کے مطالبے سے انہیں دستبردار ہونے پر مجبور کرنے میں ناکام رہی ہے۔حریت ترجمان نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں سے اپیل کی کہ وہ ہندواڑہ، گائو کدل اور کشمیریوں کے قتل عام کے دیگر سانحات کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے اور تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کے لیے بھارت پر دبا ئوڈالیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button