مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں و کشمیر کی45 فیصد نوجوان آبادی نفسیاتی دبا کا شکار ہے : وحید رحمن پرا

مقبوضہ جموں و کشمیر سلامتی کا ایشو نہیں ، اسے انسانی بحران کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے: پی ڈی پی رہنما

سری نگر،:غیرقانونی طور پر بھار ت کے زیر قبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں طویل فوجی محاصرے اور ریاستی جبر کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین نفسیاتی بحران پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رہنما اور رکن اسمبلی وحید الرحمن پرانے قابض انتظامیہ کی بے حسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اور کہا ہے کہ آدھی سے زائد کشمیری آبادی شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، حال ہی میں جاری کیے گئے ویژن دستاویز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پیرا نے کہا ہے کہ اس میں نفسیاتی بحالی اور سماجی زخموں کے مداوے کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ ”کشمیر خاموشی سے لہولہان ہے”، اور خبردار کیا کہ مقبوضہ علاقے کے تقریباً 45 فیصد نوجوان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق 41 فیصد نوجوان ڈپریشن، 26 فیصد اضطرابی امراض جبکہ ہر پانچ میں سے ایک فرد پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی) کی علامات میں مبتلا ہے۔ پراکے مطابق کشمیر کے بالغ افراد اپنی زندگی میں اوسطاً 7.7 تکلیف دہ اور صدمہ خیز تجربات سے گزرتے ہیں۔پی ڈی پی کے رکن اسمبلی نے انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز (آئی ایم ہینز) سری نگر پر مریضوں کے غیرمعمولی دباؤ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ روزانہ 300 سے 400 مریضوں کا علاج کر رہا ہے۔ صرف سال 2024 میں ادارے میں او پی ڈی کے دو لاکھ تین ہزار سے زائد کیسز درج کیے گئے، جو خطے میں نفسیاتی اذیت کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔وحید الرحمان پرانے کہا کہ اس تلخ حقیقت کے باوجود آج کا جموں و کشمیر ویژن دستاویز صفر ہمدردی کا مظاہرہ کرتا ہے اور الزام عائد کیا کہ قابض حکام انسانی اور سماجی مسائل کے بجائے صرف امن و امان کو ترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کو محض سکیورٹی کے زاویے سے نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ ایک سنگین انسانی بحران ہے جس کے لیے فوری طور پر شفا، مفاہمت اور انسانی وقار پر مبنی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب وحید الرحمان پراآئندہ بجٹ اجلاس کے دوران مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں ذہنی صحت سے متعلق ایک نجی بل پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button