حریت کانفرنس کا شہید آزادی پسند رہنما غلام محمدبُلہ کو خراج عقیدت

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے معروف کشمیری حریت پسند رہنما غلام محمد بلہ کو ان کے 51ویں یوم شہادت پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے سوپور سے تعلق رکھنے والے غلام محمد بلہ کو 15 فروری 1975 کی شب سینٹرل جیل سرینگر میں تشدد کر کے شہیدکیا گیا تھا، انہیں بھارتی پولیس نے کسی کو بتائے بغیر رات کے اندھیرے میں سوپور میں سپرد خاک کر دیا تھا۔غلام محمدبلہ کو بھارتی پولیس نے سوپور میں اندرا عبداللہ معاہدے کے خلاف احتجاجی ریلی کی قیادت کرنے پر گرفتار کیا اور بعد میں سینٹرل جیل سرینگر میں دوران حراست شہید کر دیاتھا۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں غلام محمد بلہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری شہداءکی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور ان کے مشن کو ہر قیمت پر پورا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمران 1947 سے طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ نہ ماضی میں کامیاب ہوئے اور نہ مستقبل میں کامیاب ہو نگے۔
دریں اثناءکل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادجموں وکشمیر شاخ کے رہنما محمود احمد ساغر نے شہید بلہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی اور شیخ محمد عبداللہ کے درمیان معاہدہ سامنے آنے پر جموں و کشمیر میں غیر معمولی ہنگامہ آرائی ہوئی اور کشمیری عوام میںشیخ عبداللہ اور بھارتی قیادت کے خلاف شدید غم و غصہ پایاجاتاتھا ۔ معاہدے کے خلاف مقبوضہ علاقے میں عوامی احتجاجی تحریک شروع ہوگئی اور شہید غلام محمد بلہ کوسوپور میں اسی طرح کے ایک مظاہرے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔








