انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے: عمرعبداللہ کا کشمیری نظربندوں کی حالت زار پر رد عمل

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے عدالتوں پر بوجھ کم کرنے اور بروقت انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ”ٹیلی لا “کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عمر عبداللہ نے” ٹیلی لا“ کی سرگرمیوں پر ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں کی جانی چاہئیں کہ صرف عدالتی سماعت کے لیے درکار مقدمات عدالتوں تک پہنچیں جبکہ دیگر کو” دیشا پروگرام“ کے تحت ٹیکنالوجی پر مبنی قانونی امداد کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ” ٹیلی لا“ خاص طور پر دور دراز علاقوں میں شہریوں کو وکلاءسے جوڑتا ہے، انہیں ان کے حقوق کے بارے میں آگاہ کرتا ہے اور ثالثی کے ذریعے تنازعات کو حل کرنے میں مدد کرتا ہے۔عمر عبداللہ کا بیان کشمیریوں کے خلاف ہزاروں زیر سماعت اور زیر التوا مقدمات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے جیلوں میں نظربند ان لوگوں کی مشکلات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو مقدموںکی سماعت کے منتظر ہیں۔ بہت سے کشمیری قانونی شکنجے میں پھنسے ہوئے ہیںجن کے مقدمات برسوں سے زیر التوا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی لاءان کے لیے بروقت انصاف کو یقینی بنانے میں اہم ثابت ہو سکتا ہے۔






