بھارت

بھارت کی نام نہادنئی انسداد دہشت گردی پالیسی سے بدامنی اورانتشار میں اضافہ ہوگا

نئی دہلی : بھارت نے آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کے نفاذ کے باوجوداب اپنی پہلی نام نہاد قومی انسداد دہشت گردی پالیسی” پراہار“ کا اعلان کیاہے جس کامقصد جموں و کشمیر میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تحریک حق خودارادیت اوربھارت کے مختلف علاقوں میںجاری آزادی کی تحریکوںکو دبانا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ نے پالیسی دستاویز کو اپنی آفیشل ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا ہے جس میں زمینی، فضائی، سمندری اور سائبر اسپیس میں خطرات سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ پالیسی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جرائم پیشہ ہیکرز اور مختلف ریاستیں سائبر حملوں کے ذریعے بھارت کو نشانہ بناتے رہتے ہیں اورآزادی پسندگروپ خاص طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر اور پنجاب میں تیزی سے ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجیز استعمال کر رہے ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کے مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی تشریح جائز سیاسی اختلاف کو جرم قراردینے کے لیے استعمال کی جائے گی، خاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں جہاں اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خودارادیت کے مطالبے کو بھارت طویل عرصے سے دہشت گردی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماو¿ں، کارکنوں، صحافیوں اور نوجوانوں کو گرفتارکرنے کے لئے پہلے ہی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون ”یو اے پی اے “ اور پبلک سیفٹی ایکٹ ”پی ایس اے “ جیسے کالے قوانین کو استعمال کیا جارہا ہے۔ ناقدین کو خدشہ ہے کہ پراہارمتعارف کرانے سے ایک ادارہ جاتی فریم ورک قائم ہوگاجو مقامی مزاحمتی تحریکوں کو عالمی دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرے گا۔مبصرین کاکہنا ہے کہ پالیسی میںسائبر نگرانی اور مربوط انٹیلی جنس شیئرنگ پر زوردیاگیا ہے جس کے نتیجے میں جنگ زدہ علاقوں میں سول سوسائٹی، سوشل میڈیا اور سیاسی سرگرمیوں کی نگرانی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں جو دنیا کے سب سے زیادہ فوجی جماﺅ والے علاقوں میں سے ایک ہے، اس طرح کے اقدامات سے آزادی اظہاررائے، اجتماع اورتنظیم سازی پر پابندیاں مزید سخت ہونے کا امکان ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاوہ یہ پالیسی بھارتی ریاستوں کے اندر بھی ظالمانہ کارروائیوں کا باعث بن سکتی ہے جہاں شمال مشرقی علاقوں اور بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں میں مختلف سیاسی یا نسلی تحریکیں سرگرم ہیں۔بھارت اختلاف رائے اورمسلح تحریک کوانسداد دہشت گردی کے ایک ہی نظریے سے نمٹنے کی کوشش کرکے جمہوری سرگرمیوں اور سیاسی بات چیت کے راستے کو محدود کررہا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی سے دیرینہ تنازعات بالخصوص مسئلہ کشمیر کوسیاسی سطح پر حل کرنے کے بجائے فوجی حل کا عندیہ ملتا ہے جس میںمفاہمت اور بات چیت پر طاقت اور نگرانی کو ترجیح دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ انسداد دہشت گردی کی آڑ میں سیاسی امنگوں کو دبانے سے لوگوں کا احساس محرومی بڑھ جائے گا جس سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید الجھ جائیں گے اور بدامنی اورانتشار میں اضافہ ہوگا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button