بھارت کی جانب سے صیہونی بیانیے کی حمایت مودی اور نیتن یاہو کے تشدد پسند مذہبی گٹھ جوڑ کی عکاسی

انقرہ:بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے کھل کر صیہونی بیانیے کی حمایت شروع کردی ہے اور امریکا کے بعد اسرائیل کا دوسرا بڑا حمایتی بن گیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسرو س کے مطابق ترکیہ کے نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کے تجزیے میں کہاگیاہے کہ غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں کی شہادت کے باوجود مودی نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی اور بھارت نے اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرکے غزہ کے قتل عام میں مدد فراہم کی۔ مودی نے غزہ پر اخلاقی دیوالیہ پن کا مظاہرہ کیا اور بھارت کی تاریخی فلسطین پالیسی کو دفن کر دیا۔ 70 ہزار سے زائد اموات کے باوجود اسرائیلی جارحیت کی مذمت نہ کرنا اور بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی رکھنا، تجزیے کے مطابق ایک تشدد پسند مذہبی گٹھ جوڑ کی عکاسی کرتا ہے۔ٹی آر ٹی کے مطابق مودی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھا کر خطے میں کشیدگی کو ہوا دی۔ہندوتوا نظریے کو ریاستی پالیسی بنانے سے بھارت کا سیکولر چہرہ بھی مسخ ہو چکا ہے۔ مودی نے کشمیر کی آئینی حیثیت منسوخ کرکے مسلم اکثریتی خطے کی آزادی محدود کی اور اسرائیلی طرز کے بلڈوزر جسٹس کے ذریعے مسلمانوں کے گھروں اور کاروبار کو نقصان پہنچایا۔بھارت- اسرائیل کا Hexagon Block مسلم ممالک کے خلاف سازش ہے،مودی کی پالیسیوں نے بھارت میں مذہبی تقسیم کو مزید گہرا اور خطرناک بنا دیا۔تجزیے کے مطابق مودی کی پالیسیوں نے بھارت میں مذہبی تقسیم کو مزید گہرا اور خطرناک بنا دیا ہے اور ملک کی متنوع معاشرتی بنیادوں کو نقصان پہنچایا ہے۔





