نئی دلی: بھارتی وزارت داخلہ، لداخ کے رہنماﺅں کے درمیان اجلاس بے نتیجہ ختم

نئی دلی : بھارتی وزارت داخلہ اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے خطے لداخ کے نمائندوں کے درمیان ایک اہم اجلاس بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہوگیا۔لیہہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے لداخ کو ریاست کا درجہ اور چھٹے شیڈول کے نفاذ کے اپنے مطالبات دہرائے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ اجلاس ساڑھے تین ماہ کے وقفے کے بعد منعقدہ ہوا اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی (ایچ پی سی) کا اجلاس کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا کیونکہ بھارت نے صرف تحفظات دور کرنے اور ہل کونسلوں کو مضبوط کرنے کی پیشکش کی۔
ایل اے بی اور کے ڈی اے نے نومبر میں نئی دہلی کو مطالبات کی ایک جامع دستاویز فراہم کی تھی، جس میں لداخ کی منفرد ثقافت، ماحولیاتی نظام اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ریاست کا درجہ دینے اور چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اجلاس میں لداخ خطے سے تعلق رکھنے والے معروف موسمیاتی کارکن سونم وانگچک اور لیہہ میں 24 ستمبر 2025 کو حراست میں لیے گئے دیگر افراد کی غیر مشروط رہائی کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔
لداخ خطے کے رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت مطالبات کی منظور ی میں مخلص نہیں اور وہ محض تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔








