بھارتی حکام نے نیوز پورٹل” کشمیر لائف“ کے فیس بک، انسٹاگرام پیجز بند کرادیے
سرینگر:بھارتی حکومت نے میٹا پر دباﺅ ڈال کر سرینگر میں قائم نیوز پورٹل” کشمیر لائف“ کے فیس بک اور انسٹاگرام پیجز کو بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں بلاک کرا دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیر لائف نے بتایا کہ پیجز کو بلاک کرنے سے قبل کوئی پیشگی نوٹس یا رابطہ نہیں کیاگیا۔ میٹا نے بعد میں ان پیجز پر ایک خودکار جواب جاری کیا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ یہ پابندی بھارتی حکومت کے نوٹس پر عائد کی گئی ہے۔انسٹاگرام پر ظاہرہونے والے نوٹس میں لکھا تھاکہ ہمیں اس مواد کو محدود کرنے کی ایک قانونی درخواست موصول ہوئی ہے۔ ہم نے اپنی پالیسیوں کے مطابق اس کا جائزہ لیا جس کے بعد ہم نے اس مواد تک رسائی کو محدود کر دیا ۔کشمیر لائف کے فیس بک پیج کے تقریباً 18لاکھ فالورز ہیں، جبکہ اس کے انسٹاگرام اکاو¿نٹ تک تقریباً 200,000 صارفین کی رسائی ہے۔ یہ اس طرح کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹنگ کرنے پر کشمیر لائف اور علاقے میں کام کرنے والے دیگر آزاد نیوز پورٹلز کو اکثر پابندیوں اور سنسر شپ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح کے اقدمات سے مقبوضہ علاقے میںمعلومات تک رسائی محدود ہوتی ہے، حقائق پر مبنی خبریں عوام تک نہیں پہنچ پاتیں اوریہ میڈیا کو خاموش کرانے کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے ۔





