
ارشد میر
سفارتکاری محض بیانات یا جملوں کا کھیل نہیں بلکہ ریاستی شعور، حکمتِ عملی اور عالمی توازن کا آئینہ ہوتی ہے۔ سفارتی زبان میں الفاظ کا انتخاب اتفاقیہ نہیں ہوتا بلکہ ہر لفظ ایک سوچ، ایک سمت اور ایک پیغام کا حامل ہوتا ہے کیونکہ یہی کسی ریاست کے طرزِ عمل اور وقار کا تعین کرتی ہےمگر جب اس میں بے احتیاطی در آئے تو اس کے پیچھے چھپی کمزوری، ناپختگی، ناکامیاں اور بوکھلاہٹ عیاں ہو جاتی ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شکرکا یہ بیان کہ “بھارت پاکستان کی طرح کوئی بروکر ریاست نہیں” درحقیقت سفارتی تدبر کے بجائے کمزوری کی علامت بن کر سامنے آیا۔ اس نے بھارت کا قد بڑھانے کے بجائے اس کی سفارتی پختگی پر سوال کھڑے کر دیے۔یہ ایک جملہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی سفارتی لغزش تھی جس نے بھارت کی مجموعی خارجہ پالیسی کے دعوؤں اور زمینی حقیقتوں کے درمیان موجود خلیج کو مزید نمایاں کر دیا۔
اس بیان پر بھارت کے اندر بھی شدید ردعمل سامنے آیا، خصوصاً حزبِ اختلاف کی جانب سے۔ کانگریس سمیت متعدد اپوزیشن حلقوں نے اس بیان کو غیر ضروری، غیر سفارتی اور بھارت کی روایتی سفارتی ساکھ کے منافی قرار دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا پیچیدہ جغرافیائی بحرانوں سے گزر رہی ہے، بھارت کو اشتعال انگیز یا تقابلی بیانات دینے کے بجائے ایک متوازن، غیر جانبدار اور ذمہ دارانہ سفارتی کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔ حزبِ اختلاف نے یہ بھی نشاندہی کی کہ حکومتِ بھارت ایران بحران اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال میں ایک واضح اور متفقہ پالیسی اختیار کرنے میں ناکام رہی ہے جس سے اس کی سفارتی سمت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
سفارتکاری میں ضبط، تحمل اور نپا تلا انداز کمزوری نہیں بلکہ قوت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ کسی دوسرے ملک کو “بروکر” کہنا اور خود کو اس سے برتر ظاہر کرنا دراصل ایک غیر ضروری تقابلی طرزِ بیان ہے جو سفارتی تعلقات میں کشیدگی پیدا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بیان کو نہ صرف بیرونی سطح پر بلکہ اندرونی سطح پر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
حزبِ اختلاف کا ایک اہم اعتراض یہ بھی ہے کہ بھارتی حکومت عالمی سطح پر اپنی “استثنائی حیثیت” کے بیانیے کو ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے جبکہ عملی میدان میں اس کی سفارتی موجودگی کئی اہم مواقع پر غیر مؤثر دکھائی دیتی ہے۔ ایران بحران اس کی ایک واضح مثال ہے۔ جب خطے میں کشیدگی بڑھی تو بھارت نہ تو کسی مرکزی مذاکراتی عمل کا حصہ تھا اور نہ ہی اسے ایک فعال ثالث کے طور پر دیکھا گیا۔ اس کے برعکس پاکستان، قطر، عمان اور جیسے ممالک کو سفارتی رابطوں میں اہم کردار دیا گیا۔
یہ صورتحال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ بین الاقوامی سفارتکاری میں مقام بیانات سے نہیں بلکہ عملی اعتماد، غیر جانبداری اور مسلسل روابط سے حاصل ہوتا ہے۔ مودی کی حکومت کی خارجہ پالیسی پر یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ وہ بعض مواقع پر اصولی غیر جانبداری کے بجائے مخصوص بلاکس کے قریب دکھائی دیتی ہے جس کے باعث اس کی ثالثی کی حیثیت متاثر ہوئی ہے۔ حزبِ اختلاف کے مطابق یہی جھکاؤ بھارت کو بعض حساس معاملات میں قابلِ اعتماد فریق کے طور پر سامنے آنے سے روکتا ہے۔
دوسری جانب، ایران بحران کے دوران بھارت کی سفارتی غیر موجودگی نے بھی اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ آیا بھارت واقعی عالمی ثالثی کے کردار کے قابل ہے یا نہیں؟۔ ماضی میں بھارت نے روس-یوکرین تنازع جیسے معاملات میں ثالثی کی پیشکش کی تھی مگر موجودہ صورتحال میں اس کی عملی شمولیت نہ ہونے کے برابر رہی۔ اپوزیشن کے مطابق یہ تضاد حکومت کی خارجہ پالیسی میں تسلسل کی کمی کو ظاہر کرتا ہے جو بین الاقوامی سطح پر ساکھ کو متاثر کرتا ہے۔ بلکہ بھارتی حزب اختلاف کانگریس کے مرکزی رہنما اور ترجمان پون کھیرا کا یہ جملپ بہت مشہو ہوگیا کہ اگر ایران امریکہ جنگ بندی کے لئے پاکستان کا ثالثی کا کردار دلالی ہے تو یوکرین جنگ کے موقع پر مودی کے اند بھگت کیوں فخر یہ انداز میں کہتے تھے کہ ہمارا پاپا یہ جنگ بند کرانے کا کردار ادا کرنے چلے ہیں؟
بھارتی اپوزیشن نے یہ بھی نشاندہی کی کہ حکومت کے بیانات اور عملی اقدامات کے درمیان ایک واضح فرق پایا جاتا ہے۔ ایک طرف بھارت خود کو عالمی جنوب کی آواز اور ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے جبکہ دوسری طرف اس کی داخلی صورتحال، جس میں انسانی حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی اور اقلیتی مسائل شامل ہیں، بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں تنقید کا باعث بنتی رہی ہے۔ ‘فریڈم ہاؤس ‘جیسے اداروں نے بھارت کی جمہوری درجہ بندی کو “جزوی طور پر آزاد” قرار دیا ہے جو اس کے عالمی دعوؤں کے ساتھ ہم آہنگ نہیں۔
اس پس منظر میں جے شنکر کا بیان صرف ایک سفارتی جملہ نہیں بلکہ ایک بڑے بیانیے کا حصہ ہےجس میں بھارت اپنی خود مختاری اور برتری کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم حزبِ اختلاف کے مطابق اس طرزِ فکر نے بھارت کو عملی سفارتکاری کے میدان میں کمزور اور بے نقاب کیا ہے کیونکہ عالمی سیاست میں اثر و رسوخ کا انحصار صرف دعوؤں پر نہیں بلکہ قابلِ اعتماد کردار پر ہوتا ہے۔
اس کے برعکس پاکستان کے حوالے سے بھی اس بحث میں تقابلی حوالہ دیا جاتا ہے جہاں اپوزیشن کے ناقدین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ علاقائی سیاست میں بعض ممالک اپنی حیثیت کو “ظاہر کرنے” کے بجائے “ثابت” کرنے پر توجہ دیتے ہیں۔ پاکستان نے اپنی سفارتی پالیسی میں توازن برقرار رکھتے ہوئے مختلف بلکہ متحارب عالمی قوتوں کے ساتھ روابط قائم رکھے ہیں جس کے باعث وہ ہر اہم موقع پر کردار ادا کرتا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم یہ نکتہ بھارت کی داخلی بحث میں زیادہ اہم اس لیے ہے کہ یہاں اصل سوال اپنی پالیسی کی سمت کے تعین اور تاثیر کا ہے۔
بھارتی حزبِ اختلاف کا مؤقف ہے کہ موجودہ حکومت کو اپنی سفارتی حکمت عملی پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ عالمی سیاست میں تیزی سے بدلتے حالات کا تقاضا ہے کہ بھارت جذباتی یا تقابلی بیانات کے بجائے عملی، متوازن اور غیر جانبدار رویہ اپنائے۔ بصورتِ دیگر، اس کی عالمی حیثیت کا دعویٰ محض بیانیے تک محدود رہ جائے گا۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ جے شنکر کا بیان اپنی ظاہری شکل میں ایک سادہ سا جملہ محسوس ہوتا ہےمگر اپنے اثرات میں یہ ایک گہری سفارتی بحث کو جنم دیتا ہے۔ یہ بحث نہ صرف بھارت کی خارجہ پالیسی کے خدوخال کو بے نقاب کرتی ہے بلکہ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ عالمی سطح پر مقام حاصل کرنے کے لیے صرف بالی وڈ والی خود اعتمادی کافی نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ توازن، تسلسل اور عملی حکمتِ عملی بھی ناگزیر ہے۔ بھارت کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنے بیانیے اور عمل کے درمیان موجود فاصلے کو کیسے کم کرتا ہےکیونکہ یہی فاصلہ اس کی سفارتی ساکھ کا حقیقی پیمانہ ہے۔
بغضِ پاکستان نے اسکے ریاستی تدبر کو اسقدر متاثر کردیا ہے کہ وہ بڑی آسانی سے تاریخ کے دورسے اور غلط سمت میں کھڑے ہونے کا انتخاب کرتا ہے باوجود اسکے کہ اس کے کئی اہل دانش اورحزب اختلاف نے مسلسل اسکو انتباہ دیا۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے اپنے ایک حالیہ ٹوئٹ میں کہا کہ نریند مودی اور ان کی حکومت نے ایسے وقت میں اسرائیل کا ساتھ دیاجب پورا عالمی ضمیر اسرائیل کے خلاف ہے دیا اسکو انسانیت کا سب سے بڑا مجرم سمجھتی ہے اور جس کی مجرمانہ، غیر قانونی کاروائیوں اور ایران پر ننگی جارحیت سے ایسی آگ لگی جسکی لپیٹ اب پوری دنیا اور مودی کا اپنا دیش بھی آچکا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کہ ہندو فسطائیت اور صہیونیت کے درمیان ایک گہرا نظریاتی اور اسٹریٹجک گٹھ جوڑ موجود ہے۔ یہ اتحاد صرف سفارتی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ ایک مشترکہ سوچ، قبضہ، توسیع پسندی اور مقامی آبادیوں کو دبانے،پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی طرح بھارت بھی تاریخ کی دوسری طرف کھڑا نظر آتا ہے۔ مودی نے ایسے وقت میں اسرائیل کا دورہ کیا جب اسکی طرف سے ایران پر جارحیت ہونا نظر آرہی تھی اور پھران ہی دنوں اسکی کابینہ نے 1967 کے بعد پہلی بار مقبوضہ مغربی کنارے کے تقریباً نصف حصے میں اراضی کی رجسٹریشن کی منظوری دیری وہاں سے لاکھوں فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کا سامان کیا تھا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ مودی میں مغربی کنارے پر اسرائیل کے قبضے کی مخالفت کرنے اور اپنے دوست بنجمن نیتن یاہو سے سچ بولنے کی ہمت نہیں ہے۔دراصل یہی ماڈل بھارت میں ہندو قوم پرستی کے فروغ کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جہاں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کو حاشیے پر دھکیلنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس تناظر میں مودی حکومت کی خاموشی دراصل ایک خاموش تائید ہے، جو بین الاقوامی اصولوں اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
ہندو فسطائیت اور صہیونیت کا یہ شیطانی گٹھ جوڑ چونکہ اپنے ہی کئے دھرے کی وجہ سے بے نقاب ہورہا ہے اور دوسری طرف پاکستان جیسی صائب طاقتیں اپنا صحیح مقام، صحیح سمت اور اثر دکھارہی ہیں تو شیطان یاہو کے دوستوں کی بوکھاہٹ عیاں ہورہی ہے اور وہ انتہائی بے شرمی سے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی تباہی سے بچانے کی قابل ستائش کوششوں کو دلالی کہتے ہیں۔








