بھارت میں سوشل میڈیا پر مواد بلاک کرنے کے احکامات میں نمایاں اضافہ
نئی دہلی:
بھارت میں الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹےکنالوجی کی وزارت کی جانب سے آن لائن مواد کو بلاک کرنے کے احکامات کی تعداد گزشتہ ایک سال میں دوگنی ہو گئی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہناہے کہ سال2023میں پارلیمنٹ کو بتایا گیا تھا کہ وزارت ہر سال اوسطاً 6,000 بلاکنگ احکامات جاری کرتی ہے۔ تاہم سینئر حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ تعداد 2024 میں بڑھ کر تقریباً 12,600 اور 2025 کے دسمبر تک 24,300 تک پہنچ گئی۔ بھارتی حکام کے مطابق بلاک کرنے کے تقریباً 60 فیصد احکامات ایکس پر موجود مواد کے لیے ہوتے ہیں جبکہ 25 فیصد فیس بک اور انسٹاگرام کے لیے اور تقریباً 5 فیصد یوٹیوب کے لیے ہوتے ہیں۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق نصف سے زیادہ درخواستیں وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کے نوڈل افسران کی جانب سے آتی ہیں۔ کئی بلاکنگ احکامات سیاسی جماعتوں اور رہنماو¿ں سے متعلق انسٹاگرام، فیس بک اور یوٹیوب پوسٹ ہٹانے کے لیے بھی جاری کیےجاتے ہیں۔بھارتی حکومت ا ب اس بات پر غور کر رہی ہے کہ وزارت داخلہ، وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور وزارت اطلاعات و نشریات کو بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بلاکنگ احکامات جاری کرنے کا اختیار دیا جائے تاکہ ا لیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے علاوہ یہ وزارتیں بھی ایسے احکامات جاری کر سکیں۔








