بھارتی فورسز نے گزشتہ چار ہفتوں کے دوران کئی خواتین سمیت518کشمیری گرفتار کر لیے
سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں قابض بھارتی فورسز نے گزشتہ چار ہفتوں کے دوران محاصروں اور گھروں پر چھاپوں کی کارروائیوں کے دوران کئی خواتین سمیت 518 افراد کو مختلف جھوٹے مقدمات میں گرفتار کر لیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انسداد منشیات کی نام نہاد مہم کے دورا ن نہ صرف بے گناہ لوگوں کو گرفتار کیاجا رہا ہے بلکہ انکی جائیدادیں بھی ضبط اور مسمار کی جا رہی ہیں۔
نئی دلی کے مسلط کر دہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے ماتحت پولیس اور ایجنسیوں نے 12 اپریل سے اب تک 481 مقدمات درج کیے اور 518 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ ایک افسر نے بتایا کہ اس مدت کے دوران 24 جائیدادوں کو ضبط اور منہدم کیا گیا ہے، کروڑوں روپے کے اثاثے بھی ضبط کیے گئے ہیں۔ انسداد منشیات آپریشن کے نام پر پرتشدد کارروائیاں کی جارہی ہیں، حق پر مبنی کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو بدنام اور آزادی پسند کشمیریوں کو نشانہ بنا یا جا رہا ہے۔ اس طرح کی کارروائیوں کے پیچھے کشمیریوںکو معاشی طور پر مفلوک الحال بنانا او ر اپنے ہی وطن میں انہیں اجنبی بنانا جیسے مذموم مقاصد کارفرما ہیں۔
کشمیریوں کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت علاقے میں منشیات، شراب اور دیگر نشہ آور چیزوں کو خود فروغ دے رہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی کارروائیوں کا واحد مقصد کشمیریوں کو دیوار کیساتھ لگانا اور علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا







