خصوصی رپورٹ

سانحہ چرار شریف کی تلخ یادیں 31سال بعد بھی کشمیریوں کے ذہنوں میں تازہ

11مئی 1995کوبھارتی فوجیوں نے چرار شریف کمپلیکس کو نذر آتش کر دیاتھا

سرینگر: 11مئی غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع بڈگام میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے چرار شریف میں واقع صدیوں پرانے معروف صوفی بزرگ حضرت شیخ نورالدین ولیکے مزارکی بے حرمتی کی تلخ یاددہانی ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق 10 اور 11 مئی 1995 کی درمیانی شب عید کے موقع پر چرار شریف کمپلیکس کو بھارتی فوجیوں نے نذر آتش کر دیا تھا جس کے نتیجے میں تاریخی مسجد، مزار اور سینکڑوں رہائشی مکانات تباہ ہوگئے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اس سانحے میں چرار شریف کے پہاڑی قصبے بڈگام میں ایک ہزار سے زائد مکانات اور دو سو دکانیں جل کر خاکستر جبکہ کم سے کم پندرہ سو خاندان بے گھر ہوگئے تھے۔ درگاہ کے فوجی محاصرے کے دوران 14ویں صدی کے اس عظیم صوفی بزرگ کے مزار اور مسجد کو بھی نقصان پہنچاتھا۔رپورٹ کے مطابق مقامی شہریوں اور عینی شاہدین نے اس واقعے کو "ثقافتی اور تاریخی نسل کشی” قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ بھارتی فورسز نے اس دوران طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔ کارروائی کے دوران تقریبا تیس افراد شہید ہوئے جن میں اکثریت آزادی پسند کشمیریوں کی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فورسز نے صحافیوں کو متاثرہ علاقے میں داخل ہونے کی بھی اجازت نہیں دی ۔ بی بی سی نیوز کے حوالے سے رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ بھارتی فوج نے آپریشن کے دوران مزار پر دھاوا بول دیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی طرف سے درگاہ چرار شریف کو نذر آتش کرنے کا واقعہ 31سال کاعرصہ گزرنے کے بعد بھی کشمیریوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ علاقے میں گزشتہ 37 سال میں درگاہ حضرت بل سمیت مسلمانوں کے سینکڑوں مقدس مقامات کو تباہ اور انکی بے حرمتی کی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی طرف سے چرار شریف کو نذر آتش کرنا کشمیر کی تاریخ کا سب سے المناک واقعہ ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومت پورے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کومجروح کر رہی ہے۔ کشمیری عوام کے مذہبی جذبات اور ثقافتی شناخت کو نشانہ بنانا بنیادی انسانی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، جبکہ بھارت کشمیریوں کے جذب آزادی کو دبانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے۔
دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سانحہ چرار شریف اورکشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات بھارتی ریاستی دہشت گردی کاواضح ثبو ت ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود کشمیری عوام اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button