مقبوضہ کشمیر:آبادی کا تناسب بگاڑنے کیلئے کشمیریوں کی اراضی کی سرکاری محکموں کو منتقلی کا سلسلہ جاری
مودی حکومت دانستہ طورپر جموں وکشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتی ہے

نئی دلی :مودی کی بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کیلئے عام شہریوں کی اراضی مختلف سرکاری محکموں بشمول انٹیلی جنس ایجنسیوں کو منتقل کر رہی ہے، جو بین الاقوامی طورپر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مودی حکومت کے اس اقدام کا مقصد جموں وکشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے ۔مودی حکومت نے گزشتہ سال اپریل میں ادھمپور ایئر فورس اسٹیشن پر نئے سول انکلیو کی تعمیر کا منصوبہ بنایا۔ اگست 2025میں ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا نے قرار دیا کہ مجوزہ سول انکلیو کے لیے ٹرمینل بلڈنگ، اپرون، ٹیکسی وے اور دیگر متعلقہ انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے تقریبا 27.6ایکڑ اراضی درکار ہے۔ اتھارٹی نے مقامی انتظامیہ سے سول انکلیو کی تعمیر کیلئے مطلوبہ اراضی بغیر کسی معاوضے کے منتقل کرنے کامطالبہ کیا ۔ مقامی ریونیو ریکارڈ میں یہ نشاندہی کی گئی کہ مطلوبہ اراضی نجی ملکیت میں آتی ہے اور موجودہ فوجی تنصیب کے قریب واقع ہے، جس کے باعث اسکے حصول کے امکانات پر غورکیاگیا۔ اطلاعات کے مطابق بعض دیگر سکیورٹی اداروں نے بھی اسی علاقے میں دلچسپی ظاہر کی ۔ نومبر 2025میں تحصیلدار ادھم پور نے گائوں کاشیراہ، تحصیل ادھم پور میں واقع 231کنال 6مرلہ اراضی کے ریونیو ریکارڈ فراہم کیے اور تصدیق کی کہ مذکورہ اراضی نجی ملکیت ہے اور موجودہ ایئر فورس اسٹیشن سے متصل ہے۔بھارتی پیراملٹری سی آر پی ایف نے بھی اسی اراضی میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے زمین کے کاغذات حاصل کیے۔ صرف مقبوضہ جموں و کشمیر ہی نہیں بلکہ بھارتی پنجاب میں بھی عوام مودی حکومت اور بھارتی فورسز کی اس اراضی پرقبضے کی پالیسی سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔بھارتی پنجاب کی پاکستان کے ساتھ تقریبا 553کلومیٹر طویل سرحد ہے جس میں سے تقریبا 461کلومیٹر پر باڑ نصب ہے۔ سرحدی باڑ ، بی ایس ایف اہلکاروں اور فوجیوں کیلئے راستوں، سڑکوں اور متعلقہ انفراسٹرکچر کی وجہ سے کسانوں کی سرحدی علاقوں میںواقع اپنی زمینوں تک رسائی اور ملکیتی حقوق بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ پنجاب بارڈر ایریا کسان یونین کے مطابق تقریبا 50ہزارایکڑ اراضی سرحدی باڑ کے پار واقع ہے، جس میں سے تقریبا 22ہزارایکڑ کسانوں کی ملکیت ہے۔ جس کی وجہ سے امرتسر، ترن تارن اور فیروز پور سمیت مختلف اضلاع کے ہزاروں کسان متاثر ہو رہے ہیں۔ ان سرحدی علاقوں کے کسانوں کوسخت سکیورٹی پابندیوں کا سامنا ہے ۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر اور ملحقہ سرحدی علاقوں میں مختلف انتظامی اور دفاعی جوازوں کے تحت دانستہ طورپر عام کشمیریوں کی اراضی پر قبضہ اور سکیورٹائزیشن اقدامات بین الاقوامی قوانین اور متنازعہ علاقے سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کی واضح خلاف ورزی ہے ۔






