مودی حکومت کی ناقص خارجہ پالیسی کے باعث بھارت ایک پریشان کن دور سے گزر رہا ہے، کیجر یوال

نئی دلی:بھارت میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے سربراہ اور نئی دلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ نریندر مودی حکومت کی ناقص خارجہ پالیسی کے باعث ملک ایک پریشان کن دور سے گزر رہا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کیجریوال نے نئی دلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی ایل پی جی کی پیداوار میں تقریباً 50 فیصد کمی آئی ہے اور اس کا نقصان بنیادی طور پر تجارتی شعبے میں نظر آرہا ہے ۔انہوں نے بحران کا ذمہ دار مودی حکومت کو ٹھہراتے ہوئے کہ اگر اس حکومت نے جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی طرف اپنا جھکاﺅ نہ ڈالا ہوتا تو اس بحران سے بچا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ایل پی جی کے 60 فیصد ذخائر بیرون ملک سے درآمد کیے جاتے ہیں، اس میں سے 90 فیصد آبنائے ہرمز کے ذریعے آتا ہے جو ایرانی افواج کے کنٹرول میں رہتا ہے۔
کیجریوال نے مزید کہا کہ ریستوران اور ہوٹل کی صنعت بنیادی طور پر نقصان اٹھا رہی ہے اور ان میں سے ہزاروں بند ہونے کے دہانے پر ہیں، جس سے ہزاروں ملازمتیں داو¿ پر لگ گئی ہیں۔انہوںنے کہا کہ مودی حکومت امریکی دباﺅ کے آگے جھک کئی اور بھارت کے مفادات نظر انداز کر دیے۔کیجریوال نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے بہت سے عام افسر بغیر کسی روک ٹوک کے بھارتی حکومت اور وزیر اعظم مودی کے خلاف قابل اعتراض اور مکروہ باتیں کر رہے ہیںجس سے 140 کروڑ کا ملک شرمسار ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے حکم پر عمل کر رہی ہے، بھارت نے امریکی صدر کے کہنے پر کپاس پر ڈیوٹی کم کر دی اور روسی تیل خریدنا بند کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ "کمزور” وزیر اعظم کو ٹرمپ انتظامیہ بلیک میل کر رہی ہے، اور 140 کروڑ بھارتی اس پر سخت غصے میں ہے۔






