مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیر: گجر بکروال قبائل کے گھرو ں کی مسماری مہم نے غم وغصے کو جنم دیا

جموں : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی انتظامیہ کی طرف سے مسلمان قبائل گجر بکروالوں کے گھروں کی مسماری مہم نے علاقے میں بڑے پیمانے پر غم وغصے کو جنم دیا ہے۔انتظامیہ نے جموں خطے کے علاقے سدھرا میں نام نہاد انسداد تجاوزات مہم کی آڑ میں گجر، بکروال خاندانوں کے گھروں کی مسماری مہم شروع کررکھی ہے ۔اب تک درجنوں کھوٹھے اور جھونپڑیاں مسمار کی جا چکی ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اس مسماری مہم سے پسماندہ قبائلی برادریوں میں خوف اور احساس عدم تحفظ بڑھ گیاہے جو اپنی بقا کے لیے مویشی پالتے ہیں اوراکثر ایک علاقے سے دوسرے کی طرف ہجرت کرتے رہتے ہیں۔محکمہ جنگلات کی اس ناروا کارروائی کا سخت سیاسی اور عوامی ردعمل سامنے آیاہے۔مہم کو قطعی طور پر غیر منصفانہ اور غیر انسانی قرار دیا گیا ہے۔نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں (لوک سبھا) کے رکن میاں الطاف احمد نے مسماری مہم کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیاہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں قبائلی برادری پہلے ہی بار بار بے دخلی اور مسماری کے واقعات کی وجہ سے خوف کے عالم میں زندگی بسر کر رہی ہے اور تازہ ترین کارروائی نے خانہ بدوش آبادی میں صدمے کی لہر دوڑائی ہے۔میاں الطاف نے کہا کہ متاثرہ خاندان کئی نسلوں سے علاقے میں مقیم ہیں اور اپنی روزی روٹی کے لیے چراگاہوں پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ اور محکمہ جنگلات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ قبائلی آبادی کے حقوق پامال رہے ہیں ۔ انہوں نے مسماری مہم فوری طور پر رروکنے کا مطالبہ کیا۔ مقبوضہ علاقے کے وزیر جاوید احمد رانا نے مسماری مہم کو "غیر قانونی اور غیر منصفانہ” قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا اور آپریشن میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکا رہائشیوں کے خلاف طاقت کا استعمال کررہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ریو نیو ریکارڈ نے تصدیق کی ہے کہ گجر بکروال قبائل کئی دہائیوں سے یہاں رہ رہے ہیں لیکن اسکے باوجود ان کے گھروں کیخلاف کارروائی کی گئی جو افسوسناک ہے۔سی پی آئی ایم کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے بھی آپریشن کو "غیر منصفانہ قرار دیا۔پیپلز کانفرنس کے رہنما سجاد غنی لون نے سوال کیا کہ مسماری کی اجازت کس نے دی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button