مقبوضہ کشمیر :بی جے پی منتخب حکومت کو کمزور کر کے لیفٹیننٹ گورنرکو مزید اختیار ات منتقل کر رہی ہے
سرینگر: تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت سکیورٹی خدشات کو جواز بنا کر مقبوضہ جموں و کشمیر میں منتخب حکومت کے اختیارات محدود کرتے ہوئے نئی دلی کے مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر کو مزید اختیارات منتقل کر رہی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 7مئی 2026کو بھارتی حکومت نے لیفٹیننٹ گورنر کو عوامی تحفظ اور قومی سلامتی سے متعلق صورتحال میں ٹیلی کمیونیکیشن خدمات پر وسیع اختیارات دے دیے، جن میں مداخلت، سروس کی معطلی اور پیغامات کی ڈکرپشن شامل ہے۔مبصرین کے مطابق یہ اختیارات پہلے ریاستی حکومت کے دائرہ اختیار میں تھے اور جموں و کشمیر تنظیمِ نو ایکٹ2019 کے بعد یہ دوسرا بڑا اقدام ہے جس کے ذریعے منتخب انتظامیہ کے اختیارات مزید محدود کیے گئے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگست2019میں دفعہ370کی منسوخی کے بعد بھارتی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں متعدد بھارت میں لاگو106 قوانین نافذ کیے جبکہ بعد ازاں 2024میںپولیس، امن و امان اور آل انڈیا سروسز سے متعلق اختیارات بھی لیفٹیننٹ گورنر کے سپرد کر دیے گئے۔سیاسی مبصرین کے مطابق کشمیری عوام کو بی جے پی کا وزیراعلیٰ منتخب نہ کرنے کی سزا دی جارہی ہے اور منتخب حکومت کی بجائے لیفٹیننٹ گورنر کواختیارات کی مسلسل منتقلی مقبوضہ علاقے میں سیاسی خودمختاری کے دائرے کو مزید محدود کر رہی ہے ۔ اسے مقبوضہ علاقے میں بھارتی قابض انتظامیہ انتظامی کنٹرول بڑھانے کی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔





