آپریشن سندور کے دستاویزی حقائق بھارتی دعوﺅں کی نفی کرتے ہیں:امریکی تجزیہ کار

اسلام آباد : 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان تصادم کے تناظر میں ایرانی نژادامریکی ماہر تعلیم اور سیاسی تجزیہ کار سید محمد مرانڈی نے کہا ہے کہ پاکستان کے جوابی حملے نے آپریشن سندور کے بارے میں بھارت کے جھوٹے دعوﺅں کو بے نقاب کیا اور علاقائی فوجی ڈائنامکس میں تبدیلی کو ظاہرکیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محمد مرانڈی نے یہ بات انٹرنیٹ کے پروفیسر جیانگ کے ذریعے شیئر کیے گئے ایک ویڈیو تجزیے میں کہی جس میں 7 مئی 2026 کے واقعات کا جائزہ لیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی فضائی حدود میں دراندازی کا پتہ لگانے کے چار گھنٹے اور سترہ منٹ کے اندر جوابی حملہ کیا جو اس وقت سے انتہائی کم ہے جو ایک ملک کو سیکیورٹی سے متعلق میٹنگ بلانے اور انٹلی جنس کی تصدیق کے لئے چاہیے ہوتے ہیں اوراس کے لئے کم از کم 12سے 24گھنٹے کی ضرورت ہوتی ہے۔محمدمرانڈی نے بتایا کہ جنوبی ایشیاکے فوجی تجزیہ کاروں کے پاس موجود 8 مئی کے 3بجے سے سیٹلائٹ ڈیٹا میں 240 کلومیٹر کے جنگ زدہ علاقے میں فوجی تنصیبات پر سترہ درست حملوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کی رفتار نے مغربی فوجی منصوبہ سازوں کو حیران کر دیا اور پاکستان کے کمانڈ سٹرکچر، انٹیلی جنس کے نظام اور فیصلہ سازی کی خود مختاری میں تبدیلیوں کا اشارہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ اٹھارہ ماہ ایک مربوط تیز رفتار رسپانس نیٹ ورک کی تیاری میں صرف کئے جس میں سیٹلائٹ نگرانی، زمین پر موجودر ریڈار سسٹم، سگنلز انٹیلی جنس اور مصنوعی ذہانت پر مبنی خطرے کی تشخیص شامل ہے۔نیٹ ورک میں مشرقی سرحدپر 17 ابتدائی وارننگ ریڈار اسٹیشنز شامل ہیں جو بھارتی فضائی حدود میں 320 کلومیٹر تک سرگرمی کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، راولپنڈی میں ایک سنٹرل کمانڈ سینٹر کو ڈیٹا فیڈ کرنے کے لیے اکتوبر 2024 سے چین کی تکنیکی مدد سے اپ گریڈ کیا گیا ہے۔مرانڈی نے کہا کہ یہ نظام چینی پیپلز لبریشن آرمی کی طرح خطرات کی درجہ بندی کرنے اور تیزی سے کارروائی کے لئے الگورتھم کا استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر کمانڈر امتیاز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا نظریہ دفاع سے پیشگی ڈیٹرنس کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔ان کے مطابق پاکستانی ریڈار نے بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیوں کا پتہ لگایا جو 6 مئی کو مقامی وقت کے مطابق 2143 بجے لاہور کے شمال میں فضائی حدود میں داخل ہو رہی تھیں۔ نوے سیکنڈ کے اندر سسٹم نے ان کو دشمن کے جاسوس قراردیا اور تین منٹ کے اندر سیٹلائٹ کی تصویروں نے تصدیق کی کہ موبائل لانچرز کو بھارتی علاقے کے اندر سے متحرک کیا جا رہا ہے۔مرانڈی نے آپریشن کو جنوبی ایشیاکی سیکورٹی میں ایک اہم موڑقراردیتے ہوئے کہا کہ چار گھنٹے کے اندر فوری ردعمل خود حملوں سے زیادہ اہم تھا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مبصرین اب اس واقعے کا تجزیہ کر رہے ہیں اور آپریشن کے دستاویزی حقائق آپریشن سندورکے نتائج کے بارے میں بھارتی دعوﺅں کی نفی کرتے ہیں۔








