مودی کا دورہ آسٹریلیا، انسانی حقوق کی تنظیموں کا احتجاج کااعلان

کینبرا / نئی دہلی: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے آسٹریلیا کے دورے کے دوران انسانی حقوق کی بین الاقوامی اور آسٹریلوی تنظیموں نے شدید احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ تنظیموں نے آسٹریلوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھائے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عالمی جریدے ‘دی گارڈین’ کی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ آسٹریلوی نجی تنظیموں نے بھارت میں مذہبی نفرت، تعصب اور ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھانے کیلئے احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت انتہا پسند ہندوتوا نظریے کو فروغ دے کر نسلی اور مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنارہی ہے۔
انسانی حقوق کی معروف تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آسٹریلوی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ دورے کے دوران وزیراعظم مودی سے صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مذہبی اقلیتوں کی آزادی کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، بھارت میں متنازعہ قانون شہریت کے تحت مسلم پناہ گزینوں کوجبری بے دخل کیا گیا جبکہ چھتیس گڑھ، منی پور اور لداخ جیسی ریاستوں میں تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن کی تحقیقات نہیں کی گئیں۔
بھارتی تجزیہ نگار جیتھرت راؤ نے مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے مسائل کو دانش مندی کے ساتھ حل کیا جانا چاہئے۔” انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت اپنے سیاسی مفادات کیلئے اقلیتوں کو نشانہ بنا رہی ہے جس سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔بھارت کے انسانی حقوق کے علمبردارکولن گونزالویس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ "پچھلے پانچ برسوں میں ریاستی سطح پر مظالم کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں، تاہم کسی بھی واقعے کی تحقیقات نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی افسر کو سزا دی گئی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں یہ رویہ تشویشناک ہے کہ قتل جیسے سنگین جرائم بھی بغیر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔
واضح رہے کہ مودی کا آسٹریلیا کا دورہ دو طرفہ تعلقات اور اقتصادی شراکت داری کیلئے اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کے احتجاج نے اس دورے کو تنازعات کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔






