بڈگام : لاپتہ 12سالہ بچی کی لاش برآمد ، علاقے میں کہرام
واقعہ اانتہائی دلخراش ہے،ذمہ داروں کوکڑی سزا دی جائے، میر واعظ
عصمت دری کی خدشات نے واقعے کو مزید پریشان کن بنا دیا ہے ، محبوبہ مفتی
سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر کے ضلع بڈگام میں آج ایک 12سالہ بچی اپنے گھر کے قریب مردہ پائی گی جس سے علاقے میں انتہائی غم وغصے کی لہر ڈوڈ گئی ہے۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق کم عمر لڑکی ہفتے کی شام لاپتہ ہوئی تھی۔ یہ دلدوز واقعہ ضلع کے علاقے گلوان پورہ میں پیش آیا ہے۔آج اسکی لاش گھر سے تقریباً200 میٹر کے فاصلے پر برآمد ہوئی ۔بڈگام کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ہری پرساد کے نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہ معاملہ عصمت دری اور قتل کا لگتا ہے۔ لڑکی کی لاش ملی تو علاقے میںکہرام مچ گیا اور لوگ ششندر رہ گئے ۔ بتایا جا رہا ہے کہ بچی گھر سے درسگاہ کیلئے نکلی تھی لیکن واپس نہیں لوٹی۔
دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے ایک بیان میں واقعے کو انتہائی دلخراش اور پریشان کن قراردیتے ہوئے ایکس پر لکھا”یہ انتہائی تکلیف دہ ہیں اور اس نے ہر انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ، ہمارے بچے درسگاہوں کے لیے جاتے ہوئے راستے میں بھی محفوظ محسوس نہیں ہیں۔”میرواعظ نے مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس گھنائونے فعل کے ذمہ داروں کو قانون کے تحت سخت ترین سزا دی جائے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی نابالغ لڑکی کے بہیمانہ قتل پر گہرے صدمے اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتہائی دل دہلا دینے والا قراردیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا ”بڈگام میں ایک 12 سالہ لڑکی کے بہیمانہ کے قتل کے بارے میں سن کر بہت صدمہ ہوا۔ عصمت دری کے الزامات نے اسے مزید چونکا دینے والا اور پریشان کن بنا دیا ہے”۔محبوبہ مفتی نے امید ظاہر کی کہ مجرموں کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔





