قیادت کو جیلوں میں ڈالنے سے سیاسی تنازعہ ختم نہیں ہوتا:کشمیر کمپین گلوبل
لندن : کشمیر کمپین گلوبل نے دہلی کی ایک عدالت کی طرف سے کشمیری رہنما آسیہ اندرابی کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ فیصلہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی پسندوںکے خلاف نام نہاد انسداد دہشت گردی قانون کے استعمال کی ایک اورمثال ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آسیہ اندرابی کو عمر قید جبکہ ان کی ساتھیوں فہمیدصوفی اور ناہیدہ نسرین کو 30،30 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔کشمیر کمپین گلوبل کے چیئرمین ظفر احمد قریشی نے لندن میںجاری ایک بیان میں کہاکہ یہ انصاف نہیں بلکہ قانونی عملکے ذریعے کشمیری آواز کی سیاسی سزا ہے جو تنازعے کو حل کرنے کے بجائے اختلاف رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیا جارہاہے۔انہوں نے کہاکہ آسیہ اندرابی کی سزا کو پورے کشمیر اور اس سے باہر عزت، شناخت اور خودمختاری کے مطالبے کو جرم قراردینے کی ایک اور کوشش کے طور پر دیکھا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ برطانیہ کو جو اکثر انسانی حقوق اور جمہوری آزادیوں کی بات کرتا ہے، مقبوضہ جموں وکشمیر میں ان اصولوں کی خلاف ورزی پر آنکھیں بند نہیں کرنی چاہیے۔ ظفریشی نے کہاکہ قیادت کو جیلوں میں ڈالنے سے سیاسی تنازعہ ختم نہیں ہوتا،اس سے امن نہیں آتا، نہ قانونی جواز پیدا کیاجاسکتا ہے بلکہ یہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے فوری بین الاقوامی توجہ کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔کشمیر کمپین گلوبل نے کہا کہ اس فیصلے سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی سرگرمیوںکے لیے سکڑتی ہوئی گنجائش کے حوالے سے انسانی حقوق کے علمبرداروں میں نئیتشویش پیدا ہوگی۔ انہوں نے برطانوی ارکان پارلیمنٹ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں جاری ظلم وجبر کا نوٹس لیں۔انہوںنے کہا کہ اس کیس کو محض ایک واقعہ کے طورپر نہیں بلکہ ایک وسیع تر رحجان کے طور پر دیکھا جانا چاہئے جس میں کشمیری سیاسی، سماجی اور مذہبی قیادت کو کالے قوانین کے تحت نظربندی، مقدمہ بازی اور طویل قید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔




