کشمیری تارکین وطن

مسئلہ کشمیر محض ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ لاکھوں کشمیریوں کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے: ڈاکٹر فائی

واشنگٹن: ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان محض ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ یہ بنیادی طور پر جموں و کشمیر کے لاکھوں لوگوں کے سیاسی مستقبل، وقار اور انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈاکٹر فائی نے یہ بات امریکہ کے شہربالٹی مور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حق خودارادیت سے مسلسل محروم رکھا جارہا ہے ۔ ڈاکٹر فائی نے خبردار کیا کہ حل طلب تنازعہ کشمیر دو جوہری طاقتوں کے درمیان تعلقات پر اثرانداز ہونے کی وجہ سے علاقائی اور بین الاقوامی امن کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ امریکہ اور اقوام متحدہ کے تاریخی مو¿قف کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر فائی نے 21 اپریل 1948 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 47 کو یاد کیاجو امریکہ اور برطانیہ نے مشترکہ طور پر پیش کی تھی جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں اس کے لوگوں کی آزادانہ مرضی سے کیا جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بھارت اور پاکستان کی بعد کی قراردادوں نے اس عزم کو تقویت دی۔ڈاکٹر فائی نے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں 5 اگست 2019 کے بعد آئینی اور آبادیاتی تبدیلیوں کی طرف توجہ مبذول کرائی جب بھارت نے دفعہ370 اور 35A کو منسوخ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر کشمیریوں کو لاکھوں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ہیں جو علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ انہوں نے کہاکہ بڑے پیمانے پر زمینوں پر قبضہ اور جبری نقل مکانی بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی خلاف ورزی ہے۔ڈاکٹر فائی نے خرم پرویز، یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، مسرت عالم بٹ، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی ، ناہیدہ نسرین، اور عرفان معراج کے مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی نظر بندی کو اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش قراردیا۔انہوں نے کہا کہ جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے کشمیری عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہیں ہوتے ، خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوگا۔ دیگر مقررین میں مصنفہ لیلیٰ الحداد، یو ایس کونسل آف مسلم آرگنائزیشنزکے چیئرمین ڈاکٹر اسامہ ابورشید اورکمیونٹی لیڈر اور افغان امور کے ماہرحبیب اللہ زیارشامل تھے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button