عیدگاہ سرینگر میں نماز عید صبح9:30بجے ادا کی جائے گی ، انجمن اوقاف جامع مسجد
میرواعظ نے عیدگاہ کا دورہ کرکے انتظامات کا جائزہ لیا
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر کی مجلس انتظامیہ کا ایک اجلاس جامع مسجد سرینگر کے مرکزی دفتر میں صدرِ انجمن، میرواعظ عمر فاروق کی صدارت میں منعقد ہوا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اجلاس میں 27مئی بروز بدھ نماز کی ادائیگی کے سلسلے میں انتظامات اور تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں عید کی نماز اور متعلقہ دینی تقریبات اوراجتماعات کے پرامن اور منظم انعقاد کے حوالے سے مختلف امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ انشا اللہ عیدالاضحی کی نماز سنتِ نبویۖ کے مطابق تاریخی عیدگاہ سرینگر میں صبح9:30بجے ادا کی جائے گی۔جبکہ نمازِ عید سے قبل میرواعظ عمر فاروق صبح8:30بجے عیدالاضحی اور فلسفہ قربانی، اس کی روح اور اہمیت پر خصوصی خطاب کریں گے، جس میں اطاعت خداوندی، ایثار، ہمدردی اور اللہ تعالی کی رضا کے لیے قربانی کے جذبے کو اجاگر کیا جائے گا۔اجلاس کے دوران میرواعظ عمر فاروق نے اوقاف عملے کو ہدایت دی کہ وہ عیدگاہ سرینگر میں ضروری انتظامات کے سلسلے میں وقف بورڈ اور سول انتظامیہ کے ساتھ رابطہ برقرار رکھیں تاکہ نمازِ عید خوش اسلوبی اور بغیر کسی رکاوٹ کے ادا کی جا سکے۔انجمن اوقاف نے امید ظاہر کی ہے کہ قابض حکام اس بار عیدگاہ سرینگر میں نمازِ عید کی ادائیگی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کریں گے۔ تاہم انجمن نے افسوس کااظہار کیاکہ بدقسمتی سے قابض انتظامیہ عیدگاہ اور جامع مسجد میں نمازِ عید ادا کرنے کی اجازت نہیں دیتی ہے، جو کشمیری عوام کے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچانے کے ساتھ ساتھ ان کے مذہبی حقوق اور آزادی میں کھلی مداخلت کے مترادف ہے۔انجمن اوقاف نے امید ظاہر کی کہ قابض انتظامیہ اس بار ایسا رویہ اختیار نہیں کرے گی اور بغیر کسی ابہام کے عیدگاہ میں نمازِ عید کی ادائیگی کی اجازت دی جائے گی۔







