مقبوضہ جموں وکشمیرمیں گرفتاریوں،مکانات کی مسماری کے خلاف انجینئر رشید کا بھارتی پارلیمنٹ میں احتجاج

نئی دہلی : غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے حلقہ بارہمولہ سے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن انجینئر رشید نے ضلع اسلام آباد میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور گھروں کو مسمار کرنے کے خلاف پارلیمنٹ میں احتجاج کیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایوان کا اجلاس شروع ہوتے ہی انجینئر رشیدنے مقبوضہ وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور مکانات کی مسماری کے خلاف نعرے بازی کی۔پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انجینئر رشید نے مقتول ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے بعد ہونے والے کریک ڈاو¿ن پر سوال اٹھایا۔انہوں نے کہاکہ ہزاروں لوگوں کی گرفتاری اور رہائشی مکانات کو مسمار کرنے کا جواز کیسے پیش کیا جاسکتا ہے؟انجینئررشید نے کہاکہ جموں و کشمیر میں مارشل لاءجیسی صورتحال پیدا کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اورانہیں جمہوری حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بھارت کے دوہرے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ بھارت کے دیگر حصوں میں اسی طرح کے حالات کو کس طرح سنبھالا جاتا ہے۔ انہوںنے کشمیر میں اختلاف رائے کے حوالے سے بھارتی حکومت کے نقطہ نظر کا موازنہ دہلی میں ہونے والے مظاہروں پر پولیس کے ردعمل سے کرتے ہوئے کہاکہ کشمیریوں کو مسلسل جبر کا سامنا ہے ۔







