گولڈن ٹیمپل پر حملہ، بھارت کی سفاک فوجی کارروائی، سکھ مذہب کی بے حرمتی بے نقاب

امرتسر:آپریشن بلیو اسٹار کے دوران سری ہرمندر صاحب (گولڈن ٹیمپل) پر حملے نے بھارت کی سفاک فوجی کارروائی اور سکھ مذہب، ورثے اور انسانی جانوں کی بے حرمتی کو بے نقاب کر دیایے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سکھ مذہب کے مقدس ترین مقام پر حملے میں بھارتی فوج نے اکال تخت اور سکھ ریفرنس لائبریری کو نشانہ بنایا، جس سے سکھ عقیدے کے مرکز کو میدانِ جنگ میں تبدیل کر دیا گیا۔ بھارتی فوج نےبھاری توپ خانے اور ٹینکوں کا استعمال کیا، جسے آزاد مبصرین نے بھی فوجی طاقت کا وحشیانہ استعمال قرار دیاہے۔اس حملے کے دوران ہزاروں عام سکھ یاتریوں پر بھارتی فوجیوں نے اندھادھند فائرنگ کی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 575 سکھ یاتری قتل ہوئے جبکہ آزاد اندازوں کے مطابق یہ تعداد 3,000 تک ہے۔ اکال تخت کے خلاف بھارتی فوج کی کارروائی مذہبی بے حرمتی کی علامت ہے جبکہ سکھ ریفرنس لائبریری کی تباہی نے انسانی سانحے کے ساتھ ایک ناقابلِ تلافی ثقافتی نقصان بھی پہنچایا۔آپریشن کے دوران میڈیا پر پابندیوں اور سخت معلوماتی کنٹرول نے حملے کی شدت کولوگوں چھپائے رکھا اور سکھ برادری اور بھارتی ریاست کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھارت نے اپنا فوجی مقصد حاصل کر لیا تاہم اس حملے کے بعد سکوں کا بھارتی ریاست پر سے اعتماد مکمل طور پر ختم ہوگیا۔سکھوں عقیدے کو مجروح کیا گیا۔مسئلے کو حل کرنے کی بجائے، بھارت کی طرف سے طاقت کے استعمال نے مقامی اور عالمی سطح پر سکھوں کی ناراضگی کو مزید بڑھا دیا۔ گولڈن ٹیمپل پر حملہ ریاستی مظالم اور مذہبی جذبات کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی ایک دردناک یاددہانی بنی ہوئی ہے، اور یہ زخم آج بھی سکھوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔






