محبوبہ مفتی کا محرم کے جلوسوں کی اجازت دینے، نظربند نوجوانوں کو رہا کرنے کا مطالبہ
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے قابض حکام پر زور دیا ہے کہ وہ لوگوں کومحرم الحرام کے جلوس نکالنے کی اجازت دیں اور کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربند نوجوانوں کو رہا کریں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے ایک بیان میں کہا کہ مذہبی جلوس کشمیر کے ثقافتی اور روحانی ورثے کا اٹوٹ حصہ ہیں اور لوگوں کے جذبات اور حقوق کا احترام کرتے ہوئے ان کے لئے سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ امام حسین ؑ کی تعلیمات لوگوں کو انصاف، ہمدردی اور انسانی وقار کے لیے کھڑے ہونے کی ترغیب دیتی ہیں۔انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ عزاداروں اور عقیدت مندوں کے لیے تمام ضروری انتظامات کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے گہری مذہبی اور جذباتی اہمیت رکھتا ہے اور انتظامیہ کو اس کے پرامن اور باوقار انعقاد کو یقینی بنانا چاہیے۔محبوبہ مفتی نے رواں سال کے شروع میں ایران پر امریکی اوراسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے لینے پر متعدد نوجوانوں کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربندی اور مقبوضہ جموں وکشمیرسے باہر بھارت کی جیلوں میں ان کی منتقلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پریشان کن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نوجوانوں میں احساس محرومی مزید بڑھنے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کے خلاف کالے قوانین کا استعمال نقصان دہ ہے۔ ایسے وقت میں جب ہمدردی اور افہام و تفہیم کی ضرورت ہے، حکام کو چاہیے کہ وہ تعزیری اقدامات کا سہارا لے کر مشکلات میں اضافہ کرنے کے بجائے لوگوں کے ساتھ بات چیت کریں، ان کے خدشات کو دور کریں اور زخموں پر مرحم رکھیں۔انہوں نے قابض انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ایسے تمام کیسز کا فوری جائزہ لے، نظربند افراد کو رہا کرے اور مزید جابرانہ اقدامات سے گریز کرے۔






