مقبوضہ جموں و کشمیر

پرائمری ہیلتھ سینٹر ماگام میں بنیادی سہولیات کے فقدان پر لوگ سراپا احتجاج

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ہندواڑہ کے علاقے ماگام اور ملحقہ دیہات کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پرائمری ہیلتھ سینٹر ماگام میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقامی لوگوں نے بتایا کہ 1987 میں قائم کیا گیا ہیلتھ سنٹر کبھی بھی متعلقہ حکام کی ترجیح نہیں رہا۔ مقامی رہائشی شبیر احمد نے میڈیا کو بتایاکہپی ایچ سی ماگام میں ناکافی عملہ ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہا ہے جس کی وجہ سے مریضوں کی دیکھ بھال بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرکز صحت میں بنیادی ڈھانچے کا فقدان ہے۔ شبیر احمد نے کہا کہ ہسپتال میں صرف چند ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل کا عملہ تعینات ہے جس سے آبادی کی ضروریات پوری نہیں ہوتی اور ہسپتال کا کام کاج متاثرہورہا ہے۔رہائشیوں نے بتایا کہ زیادہ تر تشخیصی سہولیات کی عدم موجودگی کی وجہ سے مریض گورنمنٹ میڈیکل کالج ہندواڑہ جانے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ کئی سال سے بار بار کی درخواستوں کے باوجود پی ایچ سی میں ماہر امراض چشم سمیت ماہر ڈاکٹروں کو تعینات نہیں کیا گیا۔ لوگوں نےمطالبہ کیا کہ مرکز صحت کو میدانی علاقے میں منتقل کیا جائے کیونکہ پہاڑی علاقے میں اس کی موجودگی کے باعث مریضوں کو آنے جانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button