بھارت کی جانب سے بنگالی مسلمانوں کی جبری بے دخلی: ہیومن رائٹس واچ کا اظہار تشویش
نیویارک: انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھارت پر ریاست مغربی بنگال میں مقیم بنگالی مسلمانوں کو جبری طور پر بنگلہ دیش بھیجنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس عمل کو بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام متعدد بنگالی باشندوں، جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، کو قانونی کارروائی اور مناسب تحفظات کے بغیر حراست میں لے کر ملک بدر کر رہے ہیں ۔ تنظیم کے مطابق متاثرہ افراد میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو کئی برسوں سے بھارت میں مقیم ہیں۔ہیومن رائٹس واچ کی ڈپٹی ڈائریکٹر برائے ایشیا میناکشی گانگولی نے کہا ہے کہ بھارتی حکام بنگالی خاندانوں کو زبردستی بنگلہ دیش بھیج رہے ہیں یا سرحد پر بے یار و مددگار چھوڑ رہے ہیں، جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارتی حکومت فوری طور پر اس عمل کو روکے، قانونی تقاضوں کو یقینی بنائے اور شہریت کی تصدیق کے لیے بنگلہ دیشی حکام سے تعاون کرے۔رپورٹ کے مطابق یکم جون 2026سے اب تک بنگلہ دیش بارڈر گارڈز بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کی جانب سے 200 سے زائد افراد کو سرحد پار دھکیلنے کی 21کوششیں ناکام بنا چکے ہیں۔ ان افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ہیومن رائٹس واچ نے رپورٹ میں 9عینی شاہدین کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی ایس ایف اہلکار رات کے وقت لوگوں کو سرحد پر لے جاتے اور خاردار تاروں میں موجود راستوں کے ذریعے انہیں بنگلہ دیش کی حدود میں داخل ہونے پر مجبور کرتے تھے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد وزیر اعلی سوویندو ادھیکاری نے دعوی کیا تھا کہ ریاستی حکومت نے مبینہ طور پر سیکڑوں افراد کو "بنگلہ دیشی درانداز” قرار دے کر حراست میں لیا جبکہ ہزاروں افراد کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ہیومن رائٹس واچ نے ووٹر فہرستوں میں حالیہ نظرثانی پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر لاکھوں افراد کے نام خارج کیے گئے۔ تنظیم کے مطابق ووٹر فہرستوں سے اخراج کو بعض صورتوں میں گرفتاری، حراست اور ملک بدری کی بنیاد بنایا جا رہا ہے۔تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ خوراک، پانی اور رہائش کے بغیر افراد کو سرحدی علاقوں میں چھوڑ دینا بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک کے مترادف ہو سکتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے بھارت اور بنگلہ دیش دونوں حکومتوں پر زور دیا ہے کہ سرحدی انتظامات کے دوران انسانی وقار اور بنیادی حقوق کا مکمل احترام یقینی بنایا جائے۔انسانی حقوق کی تنظیم نے آسام کے وزیر اعلی ہمانتا بسوا سرما کے حالیہ بیان کا بھی حوالہ دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں کو سرحد کے قریب مقامات پر لے جا کر بنگلہ دیش کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے زور دیا کہ بچوں کو ملک بدر کرنا یا سرحد پر بے سہارا چھوڑ دینا اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ طفل کی بھی خلاف ورزی ہے، جو ریاستوں کو بچوں کی شہریت کے تحفظ کا پابند بناتا ہے۔






