کسی بھی ہندو مذہبی مقام پر مسجد نہیں بنائی گئی،آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا

نئی دلی 24جون (کے ایم ایس )
آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے واضح کیاہے کہ تلنگانہ میں کسی بھی ہندو مذہبی مقام پر کوئی مسجد نہیں بنائی گئی ہے ۔
آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا حیدرآباد سرکل نے یہ وضاحت آر ٹی آئی کارکن رابن زکیئس کی طرف سے آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت دائر ایک درخواست کے جواب میں کی ہے جس میں ادارے سے ایسی قدیم مساججد سے متعلق ژبوت مانگے گئے تھے جو ہندو مذہبی مقامات یا مندروں پر تعمیر کی گئی ہیں ۔ اس درخواست کی جواب میں اے ایس آئی نے کہا ہے کہ تلنگانہ میں اس کے دائرہ اختیار میں آنے والی قدیم مساجد کے ہندو مذہبی مقامات پر تعمیر ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ تلنگانہ میں اے ایس آئی کے پاس تقریبا آٹھ یادگاریں ہیں جن میں چارمینار اور گولکنڈہ قلعہ بھی شامل ہیں۔ اپنے جواب میںرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے واضح کیا ہے کہ اس کے دائرہ اختیار میں آنے والی کسی بھی یادگار تلنگانہ ریاست میں حیدرآباد سرکل کے پاس ہندو مذہبی مقامات پر قدیم مساجد کی تعمیر کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔گزشہ ماہ تلنگانہ بی جے پی کے سربراہابندی سنجے نے ریاست میں مساجد کھودنے کے مقابلے کا اعلان کیا تھا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا یہ مساجد ہندو مندروں کے کھنڈرات پر تو نہیں بنائی گئی تھیں۔
واضح رہے کہ بھارت میں مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت کے دور میں مسلمانوں اور مساجد کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: