مقبوضہ جموں و کشمیر

پونچھ میں پاکستانی کرنسی برآمد ہونے کا بھارتی دعوی

جموں: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع پونچھ میں بھارتی فورسز نے تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران پاکستانی کرنسی برآمد کرنے کا دعوی کیا ہے۔ تاہم مبصرین نے اس دعوے کو کشمیریوں کی حق خودارادیت کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو بیرونی عناصر سے جوڑنے اور مقبوضہ علاقے کی سنگین زمینی صورتحال سے توجہ ہٹانے کی ایک اور کوشش قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مبینہ برآمدگی مینڈھر سیکٹر کے علاقے بھٹا دریان کے قریب 118 ٹیریٹوریل آرمی کی روڈ اوپننگ پارٹی کی جانب سے علاقے کی نگرانی اور تلاشی کی کارروائی کے دوران عمل میں آئی۔کارروائی کے دوران پاکستانی کرنسی نوٹ اور ایک ہاتھ سے لکھی گئی پرچی برآمد ہوئی، جس پر متعدد ایسے موبائل فون نمبر درج تھے جنہیں مبینہ طورپرپاکستان سے منسلک قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارتی حکام نے بتایا کہ برآمد شدہ مواد کو مزید جانچ اور تجزیے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔دوسری سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت طویل عرصے سے کشمیریوں کی آزادی اور حق خودارادیت کی مقامی جدوجہد کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کرتا رہا ہے، جبکہ مقبوضہ علاقے میں موجود زمینی حقائق کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ بھارت اکثر ایسے غیر مصدقہ دعوئوں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں اپنی پالیسیوں اور ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع کشمیر کو ایک سیاسی مسئلے کے بجائے محض سکیورٹی مسئلہ بنا کر پیش کرتا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس طرح کے بیانیے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلسل فوجی موجودگی اور کریک ڈائون کا جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ کشمیری عوام کی سیاسی خواہشات اور حق خودارادیت کے مطالبات کو پس منظر میں دھکیل دیا جاتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button