حامد کرزئی: سابق افغان صدر یا بھارت کا پاکستان مخالف پروپیگنڈا ٹول؟

اسلام آباد:بھارت نے افغان طالبان حکومت کے ساتھ مبینہ طور پر خطرناک گٹھ جوڑ قائم کرتے ہوئے سابق افغان صدرحامد کرزئی کو پاکستان مخالف پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے ایک باقاعدہ معاوضہ یافتہ ترجمان کے طور پر استعمال کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ اتحاد، جسے کابل میں بھارتی ایمبیسی اور طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کی سرپرستی حاصل ہے، سے نئی دہلی کی مایوس کن حکمت عملی بے نقاب ہوتی ہے جس کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا اور اپنے طالبان حامیوں کو عالمی تنقید سے محفوظ رکھنا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق حامد کرزئی، جو مبینہ طور پر ایک بھارتی آلہ کار میں تبدیل ہو چکے ہیں، اپنی سابق صدارتی حیثیت اور یورپی سفارتی روابط کو استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی فورمز اور سوشل میڈیا پر پاکستانی جارحیت کے من گھڑت بیانیے فروغ دے رہے ہیں۔ بھارتی مالی معاونت کے ذریعے وہ مبینہ طور پر تعلیم یافتہ افغان نوجوانوں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو متحرک کررہے ہیں تاکہ افغانستان کے اندرونی بحران اور بدامنی کا الزام پاکستان پر عائد کرنے سے متعلق بیانیے کو تقویت دی جا سکے۔ اس پورے منصوبے کا اصل مقصد :طالبان حکومت کو عالمی دبائو سے بچانا اور پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ یہ کٹھ پتلی کھیل بھارت کے دوہرے معیار کو آشکار کرتا ہے، جہاں ایک طرف وہ استحکام اور امن کا دعویدار بنتا ہے جبکہ دوسری جانب مبینہ طور پر طالبان شدت پسند عناصر کی پشت پناہی کرتا ہے۔ حامدکرزئی کا یہ طرزِ عمل، ناقدین کے مطابق، اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اب کسی سٹیٹس مین کا کردار ادا نہیں کر رہے بلکہ علاقائی گمراہ کن مہمات میں استعمال ہونے والے ایک بھارتی فنڈڈ مہرے کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔






