بھارت

منی پور تشدد: بھارتی سپریم کورٹ کاسابق وزیر اعلیٰ کی تمام آڈیو کلپس فرانزک جانچ کے لیے نہ بھیجنے پراظہار برہمی



نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے شورش زدہ ریاست منی پور میں2023میںنسلی تشددکو ہوادینے والے بی جے پی کے سابق وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ کی تمام آڈیو کلپس کو فرانزک جانچ کے لیے نہ بھیجنے پرناراضی کا اظہارکیاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جسٹس سنجے کمار اورجسٹس آلوک ارادھے پر مشتمل بنچ نے منی پور تشدد سے متعلق درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ وہ 20نومبر کو کوکی آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس ٹرسٹ (KOHUR)کی طرف سے داخل کردہ ایک حلف نامے سے پریشان ہیں جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف چند آڈیو کلپس کو فارنزک جانچ کے لیے بھیجا گیا ہے۔ٹرسٹ نے 2023سے مبینہ طور پر لیک ہونے والی آڈیو ریکارڈنگز کی تحقیقات کے لیے عدالت عظمی سے رجوع کیا ہے جس میں این بیرن سنگھ کی آواز سے مشابہت رکھنے والی ایک آواز میں مبینہ طور پر نسلی تشدد کو منظم کرنے کا اعتراف کیا گیاہے۔ ریاست میں نسلی تشدد کے نتیجے میں 250سے زیادہ افراد ہلاک اورمتعددزخمی ہوگئے تھے جن میں سے زیادہ تر مسیحی برادری سے تعلق رکھتے تھے جبکہ 50,000سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے جن میں سے اکثر منی پور میں ریلیف کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔این برین سنگھ نے 9فروری کو استعفیٰ دے دیاتھا جس کے بعد بھارتی حکومت نے ریاست میں چھ ماہ کے لیے صدر راج نافذ کر دیابعد ازاں اس میں مزید چھ ماہ کی توسیع کر دی گئی۔اس سے قبل رواں سال اگست میں سپریم کورٹ نے عدالتی احکامات کے باوجود فرانزک رپورٹ جمع کرانے میں تاخیر پر مودی حکومت کی سرزنش کی تھی۔ بعد ازاں بنچ نے ایک تازہ فرانزک جانچ کا حکم دیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا آڈیو کلپس میں ترمیم کی گئی یا اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی اور آیا ریکارڈنگ میں موجود آواز بیرن سنگھ کی آواز سے میل کھاتی ہے یا نہیں۔نومبر 2024میںکوکی آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس ٹرسٹ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ نے ٹیپس کی جانچ پڑتال پر رضامندی ظاہر کی اور درخواست گزار کو اس کی تصدیق کرانے کی ہدایت کی۔ اس کے بعد ٹرسٹ نے ٹیپس کی تصدیق کے لیے ایک انتہائی معروف نجی لیب ٹروتھ لیب سے رابطہ کیا جس نے کہا تھا کہ ٹیپ میں موجود آواز اور بیرن سنگھ کی آواز میں 93فیصد مماثلت ہے۔بھارتی سپریم کورٹ نے کیس کی اگلی سماعت 7جنوری کو مقرر کی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button