بھارتی ریاستی دہشت گردی کی وجہ سے لاکھوں کشمیر ی بے گھر ہوچکے ہیں
گزشتہ 38برسوں کے دوران 40ہزار سے زائد کشمیری اپنی سرزمین سے ہجرت پر مجبور ہوئے

اسلام آباد: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں 1947سے جاری غیر قانونی بھارتی قبضے اور ریاستی دہشت گردی نے لاکھوں کشمیریوں کو اپنے گھر بارچھوڑکر ہجرت کرنے اور مقبوضہ علاقے سے باہر پناہ گزینوں کی حیثیت سے زندگی گزارنے پر مجبور کیا ہے۔
آج” پناہ گزینوں کے عالمی دن” کے موقع پر کشمیر میڈیا سروس کی طرف جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ آج جب دنیا بھر میں یہ دن منایا جا رہا ہے، صرف گزشتہ38برس کے دوران40 ہزار سے زائد کشمیری جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں، مقبوضہ جموں وکشمیر کی اپنی آبائی سرزمین سے ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا 1947میںصرف جموں میں ڈوگرہ فوج اور آر ایس ایس کے ہندو جنونیوں نے لاکھوں مسلمانوں کو بے دخل کیاتھا اور 1947سے اب تک 35لاکھ سے زائد کشمیریوں نے آزاد کشمیر ، پاکستان ، برطانیہ اوردنیا کے دیگر ملکوں میں پناہ لی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلم اکثریت کو جبری بے دخلی کا سامنا ہے جبکہ اگست 2019کے بعدبھارتی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں نئے ڈومیسائل قانون نافذ کیے ہیںجسکا مقصدبھارتی ہندئوں کو علاقے کے ڈومیسائل جاری کر کے یہاں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا ہے۔ بی جے پی کی بھارتی حکومت نے اب تک لاکھوں بھارتی ہندوئوںکو مقبوضہ علاقے کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کیے ہیں۔
رپورٹ میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ متنازعہ علاقے میں بھارت کے مذموم اور کشمیر مخالف عزائم کا نوٹس لے اور دیرینہ تنازعہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرائے۔
دریں اثنا آزاد جموں و کشمیر میں سول سوسائٹی کے نمائندوں نے مظفرآباد میں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ 78 سالوں میں مقبوضہ جموں وکشمیر کے لاکھوں لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر مہاجرین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پرامن حل میں اپنا کردار ادا کریں۔




