بھارت: بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں 44 دنوں میں مسلمانوں کے 23 مذہبی مقامات مسمار

نئی دہلی: بھارت کی متعددریاستوں خاص طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیر اقتدارریاستوں میں مساجد، مدارس، عیدگاہوں اور درگاہوں سمیت مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو منہدم کئے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مسماری کی یہ مہمات محض اتفاق نہیں بلکہ مئی سے لے کر اب تک چھ بھارتی ریاستوں میں مساجد، درگاہوں، عیدگاہوں اور مدارس سمیت مسلمانوں کے کم از کم 23 مذہبی مقامات کو منہدم کیا جا چکا ہے۔رواں سال 6 مئی سے 18 جون کے درمیان ریکارڈ کیے گئے یہ واقعات بی جے پی کی زیر اقتدارریاستوں سے رپورٹ ہوئے ہیں جن میں دہلی، مہاراشٹر، اتر پردیش، گجرات، راجستھان اور ہریانہ شامل ہیں اوران میں مسلمانوں کے تاریخی مذہبی مقامات کو چن چن کر نشانہ بنایاگیا ہے۔منہدم کیے گئے مقامات میں6 مئی اور 21 مئی کو بالترتیب منگل پوری درگاہ جسے درگاہ پنچ پیراں بھی کہا جاتا ہے اور منگلپوری صنعتی علاقے اور دہلی کے پتم پورہ میں ایک ایک مدرسہ شامل ہیں۔ مسمارکئے گئے دیگر مذہبی مقامات میں 29 مئی کو فرید آبادہریانہ کے مسجد چوک میں ایک مسجد، 30 مئی کو ممبئی کے باندرہ علاقے میں دو مساجد،یکم جون کو گجرات میں تین درگاہیں اور ایک قبرستان، 2 جون کو ممبنی کے گورے گاﺅں میںحضرت سید برکت علی شاہ پیر بابا کی درگاہ،2جون کی رات کو اترپردیش کے شہر بنارس میں عجغیب شہید مسجد،3اور4 جون کی رات کو پونے کے بوپوڈی میٹرو اسٹیشن کے قریب درگاہ حضرت شمس الدین قادری، 5 جون کو سنبھل اتر پردیش کے گاو¿ں بگھاو¿ میں ایک درگاہ، سنبھل میں ہی 6 جون کو مسجد مصطفی قادری،8 جون کو جے پور راجستھان میں نورانی مسجد،8جون کو مہاراشٹر کے بھئےندر ایسٹ میںنوری مسجد،10جون کوسنبھل میںایک عیدگاہ، اٹاوہ، اتر پردیش میں سید شاہ بابا کا مزار، 17جون کوبنارس میں کاشی ریلوے اسٹیشن کے قریب مسجد گنج شہیدہ اور 18 جون کو راجستھان میں ضلع بارمیر کے علاقے ملانہ میں چار مساجدشامل ہیں۔اطلاعات کے مطابق زیادہ تر کیسز میں مسمار کیے جانے سے پہلے قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیاگیا اورنہ ہی پیشگی نوٹسز جاری کئے گئے ۔میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کئی علاقوں میں بغیر اجازت تعمیر کئے گئے ہندو مذہبی مقامات کو چھوڑ دیا گیا تھا جس سے بھارت میںمسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اورمذہب کی بنیادپر تعصب کی عکاسی ہوتی ہے۔





