مضامین

مہاجرین کا عالمی دن- جنت کے جلاوطن وارث

بے گھر کشمیریوں کا المیہ، مزاحمت اور انصاف کی طویل جدوجہد

مشتاق احمد بٹ

عالمی یومِ مہاجرین دنیا کو ان کروڑوں انسانوں کی یاد دلاتا ہے جو جنگوں، تنازعات، جبر اور ظلم کے باعث اپنے گھروں سے محروم ہوئے۔ ان بے گھر اقوام میں کشمیری عوام کا المیہ ایک ایسا انسانی سانحہ ہے جو سات دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری ہے۔ یہ صرف ہجرت، جلاوطنی یا پناہ گزینی کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسی قوم کی اجتماعی اذیت ہے جسے اپنی سرزمین، اپنی شناخت، اپنے مستقبل اور اپنے بنیادی حقِ خود ارادیت سے محروم ہونے کا درد مسلسل سہنا پڑ رہا ہے۔

کشمیر، جسے صدیوں سے "جنتِ ارضی” کہا جاتا ہے، قدرتی حسن کا ایک ایسا شاہکار ہے جس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔ برف پوش پہاڑ، سرسبز و شاداب وادیاں، نیلگوں جھیلیں، شفاف چشمے اور دلکش مناظر اس سرزمین کو دنیا کے خوبصورت ترین خطوں میں شمار کرتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب معالج اپنے مریضوں کو جسمانی و ذہنی صحت کی بحالی کے لیے کشمیر جانے کا مشورہ دیتے تھے۔ یہ وہ سرزمین تھی جہاں فطرت کی آغوش میں تھکے ہوئے جسموں کو راحت، مضطرب دلوں کو سکون اور بجھی ہوئی امیدوں کو نئی زندگی ملتی تھی۔

لیکن تاریخ کے ایک المناک موڑ پر اسی جنت نظیر سرزمین کے لاکھوں باشندوں کو اپنی ہی مٹی سے دور ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔ وہ لوگ جن کے آباؤ اجداد صدیوں سے کشمیر کی وادیوں، پہاڑوں اور میدانوں میں آباد تھے، خوف، تشدد، سیاسی بے یقینی اور مسلسل عدم تحفظ کے باعث اپنے گھروں سے محروم ہو گئے۔ لاکھوں کشمیریوں کے لیے جلاوطنی ایک انتخاب نہیں بلکہ ایک مسلط شدہ حقیقت بن گئی۔

1947 میں ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل پر تنازع نے ایک ایسے بحران کو جنم دیا جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ کشمیریوں کو ان کی خواہشات اور سیاسی امنگوں کے برخلاف بھارتی افواج کی آمد اور بعد ازاں بھارتی کنٹرول کے قیام نے ایک طویل سیاسی تنازع کو جنم دیا۔ اس ناجائز قبضے کے نتیجے میں لاکھوں کشمیری عدم تحفظ، تشدد اور بے یقینی کا شکار ہوئے، جبکہ ہزاروں خاندانوں کو اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔

1947 کے خونریز واقعات کے دوران جموں کے مسلمانوں کے خلاف وسیع پیمانے پر تشدد، قتل و غارت اور جبری نقل مکانی نے انسانی تاریخ کے ایک المناک باب کو جنم دیا۔ لاکھوں افراد اپنے گھروں، زمینوں اور جائیدادوں سے محروم ہوئے اور مہاجرت کی زندگی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اس کے بعد آنے والی دہائیوں میں بھی کشمیری عوام کو امن نصیب نہ ہو سکا۔ ہزاروں خاندانوں نے اپنے پیارے کھوئے، بے شمار افراد گرفتار ہوئے، اور لاکھوں انسان مسلسل خوف اور غیر یقینی کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور رہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ہزاروں کشمیری خاندان بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری سیاسی کشیدگی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور عدم تحفظ کے باعث آزاد جموں و کشمیر، پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ آج بھی لاکھوں کشمیری اپنے وطن سے دور زندگی بسر کر رہے ہیں، مگر ان کے دل اپنی سرزمین کی محبت سے خالی نہیں ہوئے۔

بے گھری صرف مکان کھونے کا نام نہیں۔ یہ اپنی شناخت، اپنی یادوں، اپنی ثقافت اور اپنی تاریخ سے بچھڑ جانے کا نام ہے۔ ایک بے گھر کشمیری صرف اپنا گھر نہیں کھویا، اس نے اپنی جڑیں کھو دی ہے۔ وہ اپنے بچپن کی گلیاں، اپنے بزرگوں کی قبریں، اپنے آبائی درخت، اپنی زبان کے لہجے اور اپنی آنے والی نسلوں کے خواب کھو دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جلاوطنی کا درد صرف ایک نسل تک محدود نہیں رہتا بلکہ نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔

آج ایسے لاکھوں کشمیری موجود ہیں جو جلاوطنی میں پیدا ہوئے، مگر ان کے دل اب بھی کشمیر کے لیے دھڑکتے ہیں۔ انہوں نے شاید اپنی سرزمین کو کبھی اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو، لیکن ان کے خوابوں میں اب بھی ڈل جھیل کے پانی لہراتے ہیں، ان کی یادوں میں وادی کشمیر کی خوشبو بسی ہوئی ہے اور ان کی روحیں اب بھی اپنی مٹی کو پکارتی ہیں۔

انسانی حقوق کے مبصرین اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے برسوں سے اس بات پر تشویش ظاہر کی جاتی رہی ہے کہ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی آزادیوں، شہری حقوق اور آبادی کے تناسب سے متعلق اقدامات خطے کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ کشمیری ان پالیسیوں کو اپنی تاریخی، ثقافتی اور مذہبی شناخت کے لیے ایک سنگین چیلنج تصور کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک جبری بے دخلی، سیاسی بے اختیاری اور آبادیاتی تبدیلیوں کے خدشات ایک ہی وسیع تر مسئلے کے مختلف پہلو ہیں۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس سرزمین کو قدرت نے امن، حسن اور زندگی کی علامت بنایا تھا، وہ لاکھوں کشمیریوں کے لیے محرومی، جدائی اور اذیت کی علامت بن گئی ہے۔ وہ وادی جو کبھی دنیا بھر کے سیاحوں، شاعروں اور مصوروں کو اپنی جانب کھینچتی تھی، آج اپنے ہی باشندوں کی بے بسی، آنسوؤں اور نامکمل خوابوں کی گواہ ہے۔
کشمیر کا مسئلہ محض ایک سرحدی یا سیاسی تنازع نہیں بلکہ ایک گہرا انسانی مسئلہ ہے جس نے لاکھوں زندگیاں متاثر کی ہیں۔ جب تک اس تنازع کا ایک منصفانہ، پائیدار اور پرامن حل تلاش نہیں کیا جاتا، تب تک لاکھوں بے گھر کشمیریوں کی باعزت واپسی، ان کی بحالی اور ان کے بنیادی حقوق کی مکمل ضمانت ایک ادھورا خواب ہی رہے گی۔
عالمی برادری، انسانی حقوق کے اداروں اور انصاف پر یقین رکھنے والے تمام لوگوں کے لیے یہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری مہاجرین اور بے گھر افراد کے درد کو سنیں، ان کی مشکلات کو سمجھیں اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔ ہر بے گھر کشمیری کی آنکھ میں ایک بچھڑے ہوئے گھر کا خواب ہے، ہر ماں کے دل میں اپنے وطن کی یاد ہے، اور ہر بچے کے ذہن میں ایک سوال ہے کہ آخر کب وہ دن آئے گا جب وہ اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین کو آزادی، امن اور وقار کے ساتھ دیکھ سکے گا۔

بے گھر کشمیری صرف ہمدردی نہیں چاہتے، وہ اپنی جنت کو بھارتی تسلط سے آزاد دیکھنا چاہتے ہیں،وہ انصاف چاہتے ہیں۔ وہ خیرات نہیں مانگتے، وہ اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وہ صرف زندہ رہنے کا حق نہیں، بلکہ عزت، شناخت، سلامتی، آزادی اور اپنی سرزمین پر باوقار زندگی گزارنے کا حق مانگتے ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ دنیا خاموشی توڑے، انسانی ضمیر بیدار ہو، اور ان لاکھوں بے گھر کشمیریوں کی آواز سنی جائے جو سات دہائیوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔ کیونکہ کوئی بھی قوم اس وقت تک حقیقی امن حاصل نہیں کر سکتی جب تک اسے اپنے مستقبل کے تعین، اپنی شناخت کے تحفظ اور اپنے وطن میں عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل نہ ہو۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مزید دیکھئے
Close
Back to top button