مقبوضہ جموں و کشمیر

مودی حکومت کشمیری عوام کے لیے عہدِ حاضر کی یزیدی قوت بن چکی ہے

بی جے پی کے ہندوتوا اقدامات نے مقبوضہ جموں و کشمیر کوموجودہ دور کا کربلا بنا دیاہے

سرینگر:بی جے پی کی بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم، ان پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ کر اور ان کی مذہبی آزادیوں کو سلب کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کو موجودہ دور کا کربلا بنا دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی حکومت مقبوضہ علاقے میں ہندو اجتماعات کی حوصلہ افزائی کررہی ہے جبکہ کشمیری مسلمانوں کی مذہبی سرگرمیوں، بالخصوص یومِ عاشورہ کے روایتی جلوسوں پر پابندیاں عائدہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ امتیازی طرزِ عمل مودی حکومت کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے اورمودی حکومت کشمیری عوام کے لیے عہدِ حاضر کی یزیدی طاقت بن گئی ہے۔رپورٹ میں بھارت کی جابرانہ حکمرانی کو یزیدی حکومت سے تشبیہ دی گئی ہے جس نے کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہر دن یوم عاشور ہے اور ہر مقام کربلا ہے کیونکہ کشمیری عوام اپنی جدوجہدِ آزادی کے دوران مسلسل ظلم وتشددر کا سامنا کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کشمیری عوام اپنی منصفانہ جدوجہد آزادی کیلئے بے مثال قربانیاں دے کر کربلا کی روح کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور بی جے پی کی ہندوتوا پالیسیوں کے خلاف ثابت قدم رہنے والے کشمیری حضرت امام حسین کے حقیقی پیروکار ہیں۔ کشمیریوں نے واقعہ کربلا سے ظلم کے خلاف استقامت، صبر اور مزاحمت کا درس حاصل کیا ہے۔رپورٹ میں بھارتی قابض حکام کی کٹھ پتلیوں کوکڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں یزیدی قوتوں کا ساتھی قرار دیا گیا ہے، جو کشمیری عوام کی آواز دبانے میں بھارت کے ساتھ دے رہے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق کشمیریوں کی تحریکِ آزادی، کربلا کے اس ابدی پیغام کا تسلسل ہے جو ہر حال میں ظلم و جبر کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ حضرت امام حسین اور ان کے جانثار ساتھیوں کی عظیم قربانیاں آج بھی کشمیری عوام کو بھارتی تسلط کے خلاف ثابت قدم رہنے کا حوصلہ فراہم کر رہی ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مودی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر کشمیری تقریبات اور ہندوتواسرگرمیوں کی سرپرستی کررہی ہے جبکہ مسلمانوں کے اجتماعات اورمذہبی سرگرمیوں کو محدود کرکے یا ان پر پابندیاں عائد کرکے اپنے امتیازی اور جانبدارانہ رویے کا اظہار کرتی ہے۔رپورٹ کے مطابق مودی حکومت کا ہندوتوا نظریہ ریاستی سرپرستی میں مذہبی انتہاپسندی کاعکاس اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں اسکی پالیسیاں اسی نظریے کا عملی اظہار ہیں۔ یومِ عاشور کے روایتی جلوسوں پر پابندیاں مذہبی آزادی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہیں۔ ناقدین مودی حکومت کی ان انتظامی پابندیوں کو ریاستی دہشت گردی اور سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں اور ان کاکہنا ہے کہ ایسے اقدامات عوامی تحفظ کے بجائے مخصوص طبقے کو دیوار سے لگانے، آزادیِ اظہار کو محدود کرنے اور ہندوتوا نظریے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button