سرینگر : ” این آئی اے “ عدالت نے 3 کشمیریوں کو اشتہاری قرار دیدیا

سرینگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے ”نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی‘(این آئی اے) کی ایک خصوصی عدالت نے تین کشمیریوں کو انکی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی پاداش میں اشتہاری قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عدالت نے سرینگر کے علاقے جواہر نگر کے رہائشیوں مبین احمد شا ہ اور عزیزالحسن جبکہ کپواڑہ کے علاقے تریہگاہ کی خاتون کارکن رفعت وانی کو اشتہاری قرار دیا۔
ان تینوں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے سماجی رابطوں کی سائٹوں پر بھارت کے خلاف مواد اپ لوڈ کیا ۔ ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوںکی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے “ کے تحت مقدمہ درج کیاگیا ہے ۔انہیں 31جنوری 2016تک عدالت کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے ، حکمنامے کی عدم تعمیل کی صورت میں ان کی جائداد قرق کی جائے گی ۔
یاد رہے کہ نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بی جے پی کی بھارتی حکومت نے اگست 2019میں مقبوضہ جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر لیے ہیں اور جو کوئی بھارتی جبر کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کرتا ہے اسے پبلک سیفتی ایکٹ اور یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کے تحت سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔






