مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ذیابیطس کے مریضوں میں اضافہ، مسلسل تناﺅ بنیادی وجہ

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ذیابیطس بہت تیزی سے پھیلنے والے مرض کے طورپر سامنے آگیا ہے جہاں تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بالغ افراد میں ہائی بلڈ شوگرکا مرض تیزی سے پھیل رہاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فیملی ہیلتھ سروے2023-24سے پتہ چلتا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں15 سال یا اس سے زیادہ عمر کی 13% خواتین اور 11.3% مردوں کے خون میں شوگر کی سطح بڑھ چکی ہے یا وہ ادویات لے رہے ہیں۔ یہ 2019-21کے مقابلے میں بڑے اضافے کی نشاندہی کرتا ہے جب 8.7% خواتین اور 8% مردوں میں ہائی بلڈ شوگر رپورٹ ہوئی تھی۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ نہ صرف موٹاپے اور غیر صحت مند طرز زندگی کی وجہ سے ہو رہا ہے بلکہ علاقے میں بھارتی قابض افواج کی طرف سے مسلسل چھاپوں اور ہراساں کیے جانے کے باعث ذہنی تناو¿ بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق مسلسل تناو¿ کو لیسٹرول کی سطح کو بلند کرتا ہے، نیند میں خلل ڈالتا ہے اور بلڈ شوگر کو بڑھاتا ہے جس سے لوگوں کو ٹائپ-2 ذیابیطس کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق جموں خطے میں مجموعی طور پراس کی شرح 18.9 فیصد ہے، شہری علاقوں میں 26.5 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں یہ 14.5 فیصد ہے۔ ذیابیطس کے تقریباً 40 فیصد کیسز کی تشخیص نہیں ہوتی۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے پروفیسر ڈاکٹر ایس محمد سلیم خان نے کہا کہ ذیابیطس اب صرف عمررسیدہ افراد تک محدود نہیں ہے بلکہ اس سے کم عمر افرادبھی متاثر ہو رہے ہیں۔ایک اورماہرنے کہاکہ غیر صحت بخش غذا، جسمانی غیرفعالیت، موٹاپا اور تناو¿ اہم عوامل میں شامل ہیں۔جب دن اور رات کے چھاپوں اور ہراساں کئے جانے سے مسلسل تناو¿ رہتا ہے تو یہ براہ راست میٹابولک صحت پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جسمانی غیرفعالیت، ناقص خوراک، ہائی بلڈ پریشر، تمباکو نوشی اور کم نیند بڑے خطرے والے عوامل میں شامل ہیںلیکن فوجی کارروائیوں کی وجہ سے مسلسل تناو¿ کوشوگر کے مریضوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ قراردیاجارہا ہے۔





