مضامین

سوشل میڈیا: تحریک آزادی کشمیر کا جدید ڈیجیٹل مورچہ اور شہید برہان وانی سے ڈیجیٹل مزاحمت تک کی نئی تاریخ

مشتاق احمد بٹ

دنیا کا کوئی بھی دور ہو، ظلم نے جب بھی کروٹ لی، مظلومیت نے اس کے سامنے سینہ تان کر ایک نیا رُخ اختیار کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی جبر کا سایا گہرا ہوا، مزاحمت نے اپنے اظہار کے لیے نئے استعارے تراشے۔ کبھی یہ سچائی پتھروں کے جگر سے نمودار ہوئی، کبھی قلم کی نوک سے لہو بن کر ٹپکی، کبھی کتابوں کے صفحات میں شعور بن کر مہکی، شاعری نے ہر عہد میں مظلوموں کی آواز بن کر جبر کے خلاف علمِ مزاحمت بلند کیا۔ اور کبھی بینرز پر نعرہ بن کر لہرائی۔

مگر آج اکیسویں صدی کے اس برق رفتار آشوب میں، مزاحمت نے ایک نیا پیرہن اوڑھ لیا ہے۔ آج کا سب سے موثر ہتھیار سوشل میڈیا ہے۔ یہ محض چند سافٹ ویئر ایپلی کیشنز کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ کچلے ہوئے طبقوں کا نظریاتی مورچہ، سوئے ہوئے ضمیروں کے لیے بیداری کی ایک عالمگیر لہر، اور ایک ایسا عالمی اسٹیج ہے جہاں کسی مظلوم کی سسکتی ہوئی آواز، ظالم کے آہنی ایوانوں میں زلزلے برپا کر سکتی ہے۔

خاص طور پر بھارتی مقبوضہ کشمیر کے پس منظر میں جہاں روایتی میڈیا کے لب سی دیے گئے ہوں، جہاں صحافت کی زبان پر تالے ہوں، جہاں انٹرنیٹ کی بار بار بندش اور محاصرے زندگی کا معمول ہوں، اور جہاں سچ بولنے کی پاداش میں عبرت کی مثالیں بنائی جاتی ہوں —وہاں سوشل میڈیا کشمیری عوام کے لیے ایک ایسی مقدس کھڑکی بن کر ابھرا ہے، جس سے جھانک کر وہ دنیا کے نام نہاد منصفوں کو اپنے رستے ہوئے زخم دکھا سکتے ہیں۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں کشمیری نوجوان اپنے گلے میں گھٹتی ہوئی صداؤں کو عالمی برادری کے کانوں تک پہنچاتے ہیں اور گولیوں کی بوچھاڑ میں بھی اپنی آزادی اور بقا کا پرچم بلند رکھتے ہیں۔

جب ہم تحریک آزادی کشمیر میں اس ڈیجیٹل بیداری کی تاریخ لکھیں گے، تو شہید برہان مظفر وانیؒ کا نام سنہری اور انقلابی حروف میں لکھا جائے گا۔ وہ روایتی وادیِ عشق میں "ڈیجیٹل مزاحمت” کا پہلا، معتبر اور سب سے بڑا استعارہ بن کر ابھرا۔ اس نے اگرچہ اپنے دفاع میں بندوق اٹھائی تھی، مگر اس کا اصل جادوئی ہتھیار اس کی تصویر، اس کی مسکراہٹ، اور اس کا پیغام تھاجس نے سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا کا رخ کشمیر کی طرف موڑ دیا۔ جب شہید برہانؒ مظفر وانی نے روایتی عسکری رازداری کے بت کو توڑ کر سوشل میڈیا پر وردی اور بندوق کے ساتھ اپنی تصویر اپلوڈ کی، تو اس نے دراصل دنیا کو یہ پیغام دیا کہ کشمیری نوجوان اب چھپ کر نہیں، بلکہ دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے حق کے لیے لڑ رہاہے۔ اس کی ہر ویڈیو، اس کا ہر پیغام اور اس کی ہر پوسٹ مظلوم کشمیری نوجوانوں کے دلوں میں مایوسی کے اندھیروں کو چاک کر کے شعور، حوصلہ اور ایمانی غیرت کا ایک لافانی جذبہ پھونکتی چلی گئی۔ شہید برہان مظفر وانی نے ثابت کیا کہ بعض اوقات ہتھیار سے بھی زیادہ طاقتور وہ بیانیہ ہوتا ہے جو اس ہھتیار کے پیچھے چھپے درد کو بے نقاب کر دے۔

برسوں سے روایتی مادی طاقتیں اپنے بھاری بھرکم ہتھیاروں، گماشتہ میڈیا ہاؤسز، اور معاشی اثر و رسوخ کے بل بوتے پر اپنے مظالم پر پردہ ڈالنے میں کامیاب رہی ہیں۔ لیکن اس ڈیجیٹل میڈیا نے طاقت کے اس توازن کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔

آج ایک بے بس، مظلوم کشمیری نوجوان کے ہاتھ میں موجود سمارٹ فون کی چند سیکنڈ کی ویڈیو، کروڑوں ڈالرز کی فوجی پروپیگنڈا مشینری کو پاش پاش کر دیتی ہے۔ جب کوئی نوجوان ٹویٹر پر اپنے آنگن میں گرتے ہوئے بموں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران چنگھاڑتی فوج کی لائیو ویڈیو پوسٹ کرتا ہے، یا جب کوئی بوڑھی ماں اپنے معصوم اور شہید بیٹے کے جنازے پر آنسو بہاتے ہوئے انصاف کی دہائی دیتی ہے، تو وہ پوسٹس محض اسکرین پر چمکتے ہوئے پکسلز یا سستی سرخیاں نہیں ہوتیں—وہ اس صدی کے سب سے بڑے سچ کی دستاویزی گواہی ہوتی ہیں، جو دیکھنے والوں کے ضمیر کو اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔

اسی سچائی کے خوف سے بھارت نے ہمیشہ اپنی ریاست اور گودی میڈیا کے ذریعے کشمیر کی تحریکِ آزادی کو دہشت گردی، انتہا پسندی اور چند گمراہ لوگوں کی کارروائی قرار دے کر دنیا کو گمراہ کیا۔ لیکن سوشل میڈیا کی بدولت کشمیری نوجوانوں نے اس مصنوعی اور ملمع کار بیانیے کا غرور خاک میں ملا دیا۔ فیس بک، انسٹاگرام، ایکس اور یوٹیوب پر کشمیریوں نے کسی فلٹر کے بغیر اپنے اصل چہرے، اپنی حقیقی کہانیاں، اپنی مائیں، اپنے بہتے ہوئے آنسو، اور اپنی لازوال جدوجہد کو جوں کا توں دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ یہ سچائی، یہ تصویریں، اور یہ دل دوز صدائیں جب سرحدوں کی قید کو توڑ کر دنیا کے باشعور انسانوں کے کانوں اور دلوں تک پہنچیں، تو جھوٹ کے محل تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے۔ اس ڈیجیٹل طاقت کا سب سے بڑا ثبوت خود قابض انتظامیہ کا خوف ہے، جہاں مقبوضہ کشمیر میں مہینوں تک انٹرنیٹ کو معطل رکھنا، سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کرنا، اور محض ایک پوسٹ یا ٹویٹ کرنے پر نوجوانوں کو سخت ترین قوانین کے تحت جیلوں میں ڈال دینا شامل ہے۔ یہ سب اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ بندوقوں اور ٹینکوں کے مالکان، نہتے کشمیریوں کے اسکرین پر لکھے سچ سے کانپتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر پھیلا ہوا سچ ان کے جھوٹے بیانیے کے لیے زہرِ قاتل ہے۔

آج کا کشمیری نوجوان صرف زمینی میدانوں میں ہی نبردآزما نہیں ہے، بلکہ وہ سائبر اسپیس کے لامتناہی میدان میں بھی ایک بیدار مغز اور چوکنا مزاحمتی سپاہی ہے۔

اگرشہید برہان وانیؒ نے تنہا سوشل میڈیا کو استعمال کر کے پوری ایک نسل کو خوابِ غفلت سے بیدار کر دیا تھا، تو آج ہم سب پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اس ڈیجیٹل وراثت کے امین بنیں۔ ہمیں سوشل میڈیا کو محض تفریح، لائکس، اور وقتی واہ واہ کا ذریعہ نہیں بنانا، بلکہ اسے ایک انتہائی منظم، فکری، اور نظریاتی ہتھیار میں تبدیل کرنا ہے۔

ہمارے الفاظ، تصاویر، اور ویڈیوز محض ڈیجیٹل مواد نہیں، بلکہ آزادی کے اس عظیم سفر کا حصہ ہیں جہاں ہرکلک ایک گولی ہےاور ہر شیئر ایک یلغار ہے۔

سوشل میڈیا عصرِ حاضر کا وہ جدید میدانِ جنگ ہے—ایک ایسا فکری مورچہ جہاں بارود کی جگہ بیانیہ لڑتا ہے، اور جہاں سچ بولنے والا ہر شخص سرفروش سپاہی ہوتا ہے۔

آج ہمیں شہید برہان وانیؒ کے اس ادھورے مشن کو اگلی نسلوں تک پہنچانا ہے اور یہ ثابت کرنا ہے کہ فولادی زنجیریں جسموں کو تو جکڑ سکتی ہیں، لیکن روحوں پر پہرہ نہیں بٹھا سکتیں۔ ہماری آوازیں، ہماری تحریریں، ہماری پوسٹس اور ہمارے ٹوٹے پھوٹے الفاظ—اگر ان میں سچائی کا نور اور خلوص کا لہو شامل ہو تو یہ دنیا کی بڑی سے بڑی جابر حکومت اور ظلم کی بلند و بالا دیواروں کو جڑ سے ہلا سکتے ہیں۔ یہ جنگ جاری رہے گی، اسکرینوں پر بھی اور زمینوں پر بھی… یہاں تک کہ آزادی کا سورج طلوع ہو اور غلامی کے بادل چھٹ جائے۔

مشتاق احمد بٹ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر کے شاخ کے رہنما ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مزید دیکھئے
Close
Back to top button